جمعہ‬‮ ، 30 جنوری‬‮ 2026 

’عمران خان نے صحیح کہا تھا‘ 2013 ء کے الیکشن کس طرح چرائے گئے؟ سینئر تحقیقاتی صحافی کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 29  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) سینئر تجزیہ نگار نے نجی ٹی وی پروگرام میں تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے‘ سینئر تجزیہ نگار نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم چار ممبر الیکشن کمیشن بنائیں گے اور بنا بھی دیئے ، جب الیکشن کمیشن کے ممبر بن گئے تو یہ بات طے ہونا تھی کہ ان کی تنخواہیں اور مراعات کیا ہوں گی۔ اس وقت الیکشن کمیشن کی طرف سے درجنوں خطوط وزیر اعظم ، وزارت قانون و وزارت خزانہ کولکھے گئے۔ 11 جون 2011 ء کو الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری ہوئی اور 2016 ء میں ان کے 5 سال پورے ہو گئے اور وہ گھر بھی چلے گئے لیکن ان 5 سالوں میں کوئی ایسا قانون نہیں بنا کہ ان کو کس قانون کے تحت تنخواہیں دینی ہیں۔
رؤف کلاسرا نے کہا الیکشن کمیشن کے ممبران ان سابق ججوں کی تنخواہوں کا معاملہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے طے ہونا تھا لیکن یہاں سے اصل ڈرامہ شروع ہوا جس میں الیکشن کمیشن نے خود AGPR کو خط لکھا کہ ہمیں تنخواہیں دی جائیں اور یہ بھی خود لکھ کر دے دیا کہ ہمیں کتنی تنخواہ چاہئے، کتنی مراعات اور کتنے الاؤنسز وغیرہ وغیرہ۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ ایک ایک سابق جج ممبر نے ساڑھے 8 لاکھ روپے ماہانہ کا اپنی تنخواہ کا پیکج بنایا اور لکھ کر AGPR کو بھیج دیا۔ AGPR نے معاملہ آگے وزارت قانون کو بھیج دیا ۔ وزارت قانون سے جواب آیا کہ ان ججوں کو تنخواہوں کا بل ابھی منظور نہیں کرنا ، ان پر تلوار لٹکائے رکھیں اور ان تمام ججوں سے لکھوا لیں کہ جب تک بل پاس نہیں ہوگا ہم آپ کو پرویژنل تنخواہ دیتے رہیں گے یعنی وہی ساڑھے 8 لاکھ روپے تنخواہ جو آپ چاہتے ہیں آپ کو ملتی رہے گی اور اگر بل پاس نہ ہوا تو آپ کو یہ تنخواہ واپس جمع کروانی ہوگی۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ اس سے قبل یہ ایک ایک جج اپنی 8 لاکھ روپے ماہانہ پنشن اور ساڑھے 8 لاکھ روپے یعنی تقریباََ 16 لاکھ سے زائد رقم ماہانہ وصول کرتے رہے ہیں۔ججوں نے حکومت کو لکھ کر دے دیا کہ اگر پارلیمنٹ نے بل منطور نہ کیا تو ہم 8 لاکھ روپے ماہانہ کے حساب سے تنخواہ واپس کر دیں گے اور اس طرح بغیر قانون کے یہ جج ممبران الیکشن کمیشن 5 سال تک تنخواہیں لیتے رہے ۔ ان تمام جج ممبران کو تنخواہیں پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کسی طور نہیں دی جا سکتی تھی۔ انہیں غیر قانونی تنخواہیں دی گئیں۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ ان سب ججوں کو تنخواہوں کے واپس لئے جانے کا ڈراوا دے کر ان سے اپنے حق میں فیصلے کروائے جاتے رہے۔ عمران خان صحیح کہتے ہیں کہ میرا الیکشن چرایا گیا تھا لیکن وہ خود کو عقل کل سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ الیکشن چرایا گیا تھا لیکن وہ اسمبلی میں نہیں جاتے، کمیٹیوں میں نہیں بیٹھتے ۔ عمران خان کو چاہئے کہ پارلیمنٹ جایا کریں اور کمیٹیوں میں بیٹھا کریں۔
رؤف کلاسرا نے مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ اب جو نئے ممبران الیکشن کمیشن تعینات کئے جا رہے ہیں ان کا بھی کوئی بل پارلیمنٹ میں نہیں لایا گیا، اور ایک بار پھر وہی گیم کی جانے لگی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…