منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

بڑے شہرکا اہم محکمہ لاوارث ہو گیا

datetime 26  جون‬‮  2016 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی کے محکمہ فائر بریگیڈ کے پاس نہ مناسب فنڈز ہیں، نہ جدید تربیت اور آلات سے لیس عملہ، شہر میں تیسرے درجے، یعنی بڑے پیمانے پرلگنے والی آگ کو بجھانے کیلئے پانی کے ساتھ فوم نامی کیمیکل بھی درکار ہوتا ہے، جو اول تو ہوتا ہی نہیں اور ہوتا ہے تو ضرورت سے اتنا کم کہ کسی کام نہیں آتا۔کراچی میں فائر بریگیڈ کا محکمہ لاوارث ہوگیا،فائر فائٹرز جدید تربیت، حفاظتی لباس اور ضروری آلات سے محروم ہیں،چھوٹی موٹی آگ تو لگتی اور بجھتی رہتی ہے مگر شہر کے کسی مقام پر تیسرے درجے کی یعنی شدید ترین آگ لگ جائے، تو اس پر قابو پانے کیلئے مختلف کیمیکلز سے تیار کردہ ’فوم کمپاؤنڈ‘کی اہمیت پانی سے بھی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ یہ آکسیجن کو آگ تک پہنچنے سے روکتا ہے۔کے ایم سی کے 22 فائر اسٹیشنز ہیں لیکن ضرورت پڑ جائے تو کسی کے پاس بھی اتنا فوم نہیں ہوتا کہ تیسرے درجے کی آگ بجھانے کیلئے کافی ہو۔ایک فائر ٹینڈر جب آگ پر قابو پانے کیلئے فوم کا استعمال کرتا ہے تو اس کے ٹینک میں آدھا پانی اور آدھا فوم ہوتا ہے تاکہ پریشر برقرار رکھا جا سکے کیونکہ تین منٹ بعد فوم کا اثر ختم ہونے لگتا ہے۔اصولی طور پر ہر اسٹیشن کے پاس فوم کے 20 لیٹر پر مشتمل 50 ڈبے ہونے چاہئیں لیکن 2013 ء کے بعد سے فوم کیلئے کوئی ٹینڈر نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق کراچی کو 162 فائر ٹینڈرز درکار ہیں لیکن صرف 35ہیں ،ایک مکمل فائر اسٹیشن میں ڈیڑھ لاکھ گیلن پانی ہر وقت موجود ہونا چاہیے لیکن شہر کے متعدد فائر اسٹیشنز کے پاس پانی جمع کرنے کی سہولت نہیں ہے۔شہر میں ہنگامی بنیادوں پر کم از کم 54 فائر اسٹیشنز کی ضرورت ہے لیکن اس وقت صرف 20 ہیں، جن میں سے زیادہ تر کسی کام کے نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…