منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

کراچی میں خطرے کی گھنٹی بج گئی،خطرناک ترین انتباہ

datetime 30  اپریل‬‮  2016 |

کراچی(نیوزڈیسک) حساس اداروں نے شہر قائد میں پولیس پر دپشت گردوں کی جانب سے بڑے حملوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق ملک دشمن عناصر نے پڑوسی ممالک سے ایک ہفتے قبل 11 سے زائد خودکش بمبار پاکستان میں داخل کرائے ہیں۔داخل ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم، لسانی اور مذہبی جماعتوں سے بتایا جاتا ہے۔اس ضمن میں حساس اداروں نے پولیس کو ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ دہشت گرد سندھ پولیس کے تربیتی مراکز، اعلیٰ افسران کے دفاتر، پولیس چوکیوں اور پولیس کی گاڑیوں کو نشانہ بناسکتے ہیں۔ جس کے بعد سندھ پولیس نے شہر بھر میں اسنیپ چیکنگ، گشت اور تلاشی کے عمل کو مزید سخت کردیا ہے۔ حساس اداروں کی جانب سے پولیس حکام کو ایک مراسلہ ارسال کیا گیا جس میں کہا گیا کہ دہشت گردوں کا گروہ سندھ پولیس کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کرچکا ہے۔ منصوبہ ساز دہشت گردوں کا تعلق کالعدم، لسانی و مذہبی جماعتوں سے ہے۔دہشت گرد کاررائیوں کے دوران ویسٹ زون کے علاقے اورنگی ٹاؤن،منگھو پیر بلدیہ، ڈسٹرکٹ سینٹرل میں اجمیر نگری، سر سید، نیو کراچی، ملیر زون میں گڈاپ ٹاؤن جبکہ ایسٹ زون میں سہراب گوٹھ اور شہر کے مضافاتی علاقے شامل ہیں۔ حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی مسلسل نگرانی میں مصروف ہیں اور خاص ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے موٹر سائیکلوں یا بڑی گاڑیوں کا استعمال کرسکتے ہیں تاہم شہر بھر میں پولیس اہکاروں کو ضابطہ اخلاق کی پابندی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ گشت کے دوران بلٹ پروف جیکٹ اور ہیلمٹ لازمی پہنا جائے جبکہ پولیس سپاہی عام پبلک مقامات اور ہوٹلوں پر بیٹھنے سے گریز کریں۔ اسنیپ چیکنگ کے دوران بھی الرٹ کھڑے ہوں اور تھوڑی دیر بعد اپنی جگہ تبدیل کریں۔ مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھیں جبکہ ویجیلنس نظام کے تحت اسپتالوں، شاپنگ سینٹروں، بازاروں اور تفریحی مقامات کے اطراف میں سیکورٹی بڑھائیں اور مشکوک اشیاء دیکھتے ہی بم ڈسپوزل اسکواڈ کی مدد حاصل کی جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…