لاہور(نیوزڈیسک )انسداد دہشتگردی کی عدالت میں سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق دائر استغاثہ کیس میں گزشتہ روز عوامی تحریک کے مزید 2گواہوں محمد شکیل اور سانحہ کے زخمی جنید وحید نے اپنا بیان قلمبند کروایا۔ محمد شکیل نے انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج چودھری محمد اعظم کے روبرو اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی منصوبہ بندی 15 جون 2014 ء کے دن سول سیکرٹریٹ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کی گئی ۔اجلاس میں صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری سید توقیر شاہ، ہوم سیکرٹری میجر(ر) محمد اعظم، کمشنر لاہور ڈویژن راشد محمود لنگڑیال، ڈی سی او لاہور کیپٹن(ر) محمد عثمان ،اے سی ماڈل ٹاؤن طارق منظور چانڈیو، ٹی ایم او ماڈل ٹاؤن علی عباس اور ڈی آئی جی آپریشن رانا عبدالجبار نے شرکت کی۔ گواہ محمد شکیل نے بتایا کہ اس میٹنگ اور اس کے ایجنڈے کا اعتراف مذکورہ افراد نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری کرنے والے جسٹس علی باقر نجفی کے روبرو بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ صوبائی اعلیٰ عہدیداروں نے وزیراعظم ،وزیراعلیٰ ،وفاقی وزراء کی ہدایات کی روشنی میں حفاظتی رکاوٹیں ہٹانے کی آڑ میں 15 جون کے دن منعقد ہونے والی میٹنگ میں ’’سبق ‘‘ سکھانے کا جو فیصلہ کیا تھا اس پر 17 جون 2014 ء کے دن عوامی تحریک اور منہاج القرآن کے پرامن کارکنوں کو بے دردی سے شہید اور زخمی کر کے عملدرآمد کیا۔اس نے اپنے بیان میں کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن طے شدہ منصوبہ کے مطابق رونما ہوا۔ دوسرے گواہ جنید وحید نے بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ میں 17 جون 2014 ء کے دن معمول کے مطابق اپنی ہمشیرہ جو منہاج القرآن ویمن لیگ کی عہدیدار ہے کو مرکزی سیکرٹریٹ چھوڑنے آیا تو میں نے دیکھا پولیس نے منہاج القرآن سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کر رکھا ہے۔میں سیکرٹریٹ سے سربراہ عوامی تحریک کی رہائش گاہ کی طرف جارہا تھا جہاں پہلے سے کارکن موجود تھے میں جیسے ہی رہائش گاہ کے قریب پہنچا تو آئی جی آفس کے ایک کانسٹیبل احسن بٹ نے اپنی سرکاری ایس ایم جی رائفل سے مجھ پر اندھا دھند فائر کھول دیا۔اس کی فائرنگ سے دو گولیاں مجھے لگیں ،ایک بائیں ٹانگ اور ایک پیٹ کے بائیں جانب جس سے میں شدید زخمی ہو کر گر پڑا۔جنید وحید نے مزید کہا کہ اس دوران پولیس اہلکار اندھا دھند فائرنگ کرتے رہے ،لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی ہوتی رہی جس سے عوامی تحریک کے درجنوں کارکن شہید اور زخمی ہوئے ۔گواہان کے بیانات قلمبند ہونے کے بعد عوامی تحریک کے وکلاء رائے بشیر احمد ایڈووکیٹ، نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ، لہراسب ایڈووکیٹ، فرزند مشہدی ایڈووکیٹ، مستغیث جواد حامد، سردار غضنفر ایڈووکیٹ اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات نوراللہ صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 61 ایم ایل سی اور 100 زخمیوں کے بیانات استغاثہ کی دستاویزات کا حصہ ہیں۔ ان میں سے اب تک 18 گواہان اپنا بیان قلمبند کروا چکے ہیں جن میں 14 زخمی اور چار چشم دید گواہ ہیں۔ انہوں نے بتایا ایک زخمی خاتون آمنہ بتول نے بھی اپنا بیان قلمبند کروایا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کی مزید سماعت 26 اپریل کو ہو گی۔
سانحہ ماڈل ٹاﺅن ،”سبق “ سکھانے کا فیصلہ کن شخصیات نے کیا؟اہم گواہ کے حیرت انگیز انکشافات
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)
-
کیا رواں ہفتے پیٹرول کی قیمت میں 73 روپے اضافہ ہونے جا رہا ہے؟اوگرا نے بتا دیا
-
بچوں کے ب فارم ۔۔ والدین کے لئے بڑی خبر
-
کیا پٹرول کی قیمت مزید بڑھے گی؟ وزیر خزانہ کا اہم بیان سامنے آ گیا
-
جمعتہ الوداع کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان
-
رکشہ اور موٹر سائیکل کا چالان کرنے پر پابندی عائد
-
پاکستان پر عالمی سفری پابندیوں میں 3ماہ کی توسیع
-
عرب ملک نے تارکین وطن کے لیے دروازے کھول دیئے
-
عید الفطر کا چاند کب نظر آئے گا؟ سپارکو کی اہم پیش گوئی سامنے آگئی
-
ایران جنگ میں کتنے امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہو چکے؟ پینٹاگون کا بڑا اعتراف
-
کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ کے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا؟ فاروق ستار کا حیران کن دعویٰ
-
گورنر سندھ کا موٹرسائیکل سواروں کو عید تک 3 لیٹر پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان
-
سری لنکا نے سابق پاکستانی کوچ کی خدمات حاصل کرلیں
-
بھارتی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ،نوجوان کی زندگی ختم کرنے کی اجازت دیدی



















































