ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

”قائد اعظم کے آخری الفاظ“

datetime 5  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کے آخری الفاظ جو میڈیا ،سیاستدانوں یا کسی تیسرے واسطے کے ذریعے کبھی آپ تک نہیں پہنچائے گئے۔یہ الفاظ آج کے پاکستان کا مسقبل لبرل ازم میں ڈھونڈنے اور سود میں گنجائش پیدا کرنے والے نام نہاد حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہیں۔یہ الفاظ علامہ ڈاکٹر اسرار احمد (مرحوم )کے درس کی ایک ویڈیو سے ماخوذ کیے گئے ہیں۔علامہ ڈاکٹر اسرار احمد (مرحوم)کے مطابق ”قائد اعظم کے چند الفاظ جو میں چاہتا ہوں کہ آپ تک پہنچادوں۔قائد اعظم جب تپ دق کے عارضہ میں مبتلا تھے اور زندگی کے آخری ایام تھے۔میں لاہور کے میڈیکل کالج میں پڑھتا تھا ، ہمارے پرنسپل الٰہی بخش تھے ،انہیں بھی علاج کیلئے بلایا گیا تھا۔ٹی بی مرض کے ماہر پروفیسر ریاض علی شاہ نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران بتایاکہ اس وقت ان کے حالات کیا تھے ؟ان کے مطابق قائد اعظم اتنے کمزور تھے کہ دو چار جملے بولنے کے بعد خواب میں چلے جاتے تھے۔پروفیسر ریاض کے مطابق ہم نے پابندی لگا رکھی تھی کہ آپ کچھ نہیں بولیں گے۔ ایک نئی دوا شروع کی تھی ،ہم قریب ہی بیٹھ کر اس کے اثرات دیکھ رہے تھے لیکن ہم نے محسوس کیا کہ قائد اعظم کچھ کہنا چاہتے ہیں ، تو ہم نے کہاکہ یہ اندرونی کشمکش تو زیادہ خراب کرے گی تو ہم نے کہاقائد اعظم فرمائیے ، کیا فرمانا چاہتے ہیں ؟جو کچھ انہوں نے فرمایا وہ من وعن پیش ہے۔”تم جانتے ہو کہ پاکستان بن چکا ہے اور میری روح کو تسکین ملی ہے ،یہ مشکل کام تھا اور میں اکیلا اسے کبھی نہیں کرسکتا تھا ،میرا ایمان ہے کہ یہ رسول خدا ? کا روحانی فیض ہیکہ پاکستان رمضان کی 27ویں شب کو وجود میں آیا ہے ،قرآن مجید بھی 27ویں شب کو نازل ہوا ہے ،اب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلاف راشدہ کا نمونہ بنائیں تاکہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو پوری زمین کی پاسداری ہو ”۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…