جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

نہلے پہ دہلہ،پاکستان کے اقدام پر بنگلہ دیش حکومت کی چیخیں نکل گئیں،شدید احتجاج

datetime 4  فروری‬‮  2016 |

ڈھاکہ(نیوزڈیسک) بنگلہ دیش کے سفارتی عملے کے دو افسران کو 4 گھنٹے تک مبینہ طور پر حراست میں رکھنے پر ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کرکے احتجاج کیا گیا جس کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی آگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ سال نومبر میں سفارتی تعلقات اس وقت کشیدہ صورت حال اختیار کرگئے تھے جب بنگلہ دیش نے جماعت اسلامی کے دو اپوزیشن رہنماو¿ں کو 1971 کی جنگ میں مبینہ مظالم کے الزام میں سزائے موت دے دی تھی۔اس وقت پاکستان کی وزارت خارجہ نے پھانسی کی ان سزاو¿ں پرگہری تشویش اور غم کا اظہار کیا تھا اور مذکورہ تنازع کے دوران مبینہ مظالم میں شامل افراد کے خلاف جاری ٹرائل کو ناقص قرار دیا تھا۔واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے سفارتی عملے کے افسران کی حراست ڈھاکہ میں ایک پاکستانی سفارتی عہدیدار کی مبینہ طور پر مشکوک سرگرمیوں پر کی جانے والی حراست کے کچھ گھنٹوں بعد سامنے آئی تھی۔دونوں جانب کے سفارتی عملے کو کچھ گھنٹوں کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔ڈھاکہ میں وزارت خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستانی ہائی کمشنر کو واقعہ پر سمن جاری کیے تھے۔بنگلہ دیشی ٹیلی ویژن نے پاکستانی سفارت کار کے وزارت خارجہ کے دفتر سے نکلنے کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں بنگلہ دیش میں موجود پاکستان کی خاتون سفیر فارینہ ارشد کو بنگلہ دیش کے حکام نے جاسوسی اور اسلامی گروپوں کی مالی معاونت کا الزام لگا کر مک چھوڑنے کا حکم دے دیا تھا۔واقعہ کے فوری بعد پاکستان نے بنگلہ دیش کے سفارت کار کو ملک چھوڑنے کا حکم سنا دیا تھا جس کے بارے میں ڈھاکہ کے حکام کا کہنا تھا کہ یہ پاکستانی سفیر کو بنگلہ دیش سے نکالے جانے کی انتقامی کارروائی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…