جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

تخت لاہورکے شہری کیاکھاتے ہیں ؟جان کرآپ لاہورمیں کھانے کھاناہی چھوڑدیں گے

datetime 8  جنوری‬‮  2016 |

لاہور(نیوزڈیسک) صوبائی وزیر خوراک بلا ل یاسین نے کہا ہے کہ بیگ مین ریسٹورنٹ شادمان کو ناقص صفائی ستھرائی اور ملازمین کے سرٹیفکیٹس کی عدم موجودگی و اشیائے خوردونوش کے شیلف لائف نہ لکھی ہونے پر ریسٹورنٹ کو سیل کر دیا گیا جبکہ تین ریسٹورنٹوں کوجرمانے کئے گئے ہیں ۔بلال یاسین نے کہاکہ حفظان صحت اور معیاری کھانوں کے لئے ریسٹورنٹس میں استعمال ہونے والی اشیائے خوردونوش ،سٹاف اور صفائی ستھرائی کے ضمن میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اورفوڈ اتھارٹی کی جانب سے طے کردہ میکنزم پر عملد ر آمد کو یقینی بنایا جائے گا -یہ بات انہوں نے شاد مان مارکیٹ کے ریسٹورنٹس کے اچانک دورہ کے دوران کہی-ان کے ہمراہ فوڈ سیفٹی آفیسر ثمر حیات گوندل کے علاوہ دیگر افسران بھی موجود تھے-صوبائی وزیر نے بگ ایم ریسٹورنٹ کو چیک کیا جہاں ناقص صفائی ستھرائی کے انتظام پائے گے اور ملازمین کے سرٹیفکیٹس کے عدم موجودگی کے علاوہ ان کے گندے ہاتھ اور ناخن بڑھے ہوئے پائے گئے جس پر فوڈ سیفٹی آفیسر نے 10ہزار روپے جرمانہ کیا جبکہ بغدادی ریسٹورنٹ میں ناقص صفائی کے انتظامات پر 15ہزار روپے جرمانہ اور فریٹو ریسٹورنٹ کو بھی ناقص صفائی کے بنا ءپر 25ہزار روپے جرمانہ کیا جبکہ بیگ مین ریسٹورنٹ شادمان کو ناقص صفائی ستھرائی اور ملازمین کے سرٹیفکیٹس کی عدم موجودگی و اشیائے خوردونوش کے شیلف لائف نہ لکھی ہونے پر ریسٹورنٹ کو سیل کر دیا گیا -اس موقع پر صوبائی وزیر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی کے ویڑن کے مطابق عوام کو بہتر کھانے کی اشیاء فراہم کرنے کے لئے فوڈ اتھارٹی کی جانب سے جو میکنزم بنایا گیا ہے اس پر بھر پور طریقے سے عملدر آمد کرایا جائے اور اس ضمن میں کوئی اثر و رسوخ برداشت نہیں کیا جائے گا -انہو ں نے کہا کہ فوڈ اتھارٹی میکنز م تیار کرنے اور اس پر عملدر آمد کرانے کا مقصد عوام کو معیاری کھانے فراہم کرنا ہے جس سے نہ صرف ریسٹورنٹس کی صنعت کا معیار بلند ہو گا بلکہ عوام کو ذہنی آسودگی حاصل ہو گی -انہو ں نے کہا کہ عوام کو معیاری اور حفظان صحت کے مطابق کھانوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ بہتر ماحول بھی دستیاب کرنا ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…