جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بلوچستان میں اقتدار نواب ثنا اللہ زہری کو منتقل ‘کابینہ کی تشکیل کیلئے غور

datetime 5  جنوری‬‮  2016 |

کوئٹہ(نیوزڈیسک)مری معاہدے کے تحت بلوچستان میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے بعد اقتدار نواب ثنا اللہ زہری کو منتقل ہوگیالیکن صوبائی کابینہ دو ہفتے بعد بھی تشکیل نہیں دی جاسکی۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے بلوچستان میں اڑھائی سالہ دوراقتدار میں طے شدہ فارمولے کے تحت مخلوط کابینہ میں مسلم لیگ ن کے پاس سینئر وزیر سمیت پانچ وزارتیں اور دو مشیر، پشتونخواہ میپ کے چار وزرا اور دو مشیر اور نیشنل پارٹی کے بھی چار وزیراور ایک مشیر جبکہ ق لیگ کا ایک وزیرشامل تھا۔23دسمبر کو ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وزارت اعلیٰ کامنصب چھوڑا تو ان کے مستعفی ہونے کے بعد 14وزرا اور چار مشیروں پر مشتمل صوبائی کابینہ بھی فارغ ہوگئی۔ڈاکٹر عبدالمالک کیمستعفی ہونے کے اگلے ہی دن 24دسمبر کو نواب ثنا اللہ زہری نے وزارت اعلی کا منصب تو سنبھال لیا ،تاہم ان کی کابینہ اب تک تشکیل نہیں دی جاسکی۔ن لیگ کی اتحادی پشتونخواہ میپ اور نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ وزارتوں پر ان کی جماعتوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل میر طاہر بزنجو کا کہنا ہے کہ جہاں تک ہماری جماعت کا تعلق ہے، میں کوئی چیز چھپانا نہیں چاہتا، ہمارے وہی منسٹرز ہیں جو پہلے تھے ان میں کوئی تبدیلی نہیں لارہے، ہم نے اپنی لسٹ پہلے ہی حوالے کردی ہے۔مخلوط صوبائی حکومت میں شامل پارلیمانی جماعتوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے پاس وزارتیں پہلے والی ہی رہیں گی تاہم وزیروں میں ردوبدل ہوسکتاہے‘یہ یقین دہانی بہرحال نواب ثنائ اللہ زہری بھی کراچکے ہیں۔وزیراعلی بلوچستان نواب ثنائ اللہ زہری کا کہنا ہے کہ منسٹریاں تو وہی رہیں گی ،ہمیں بھی اختیار ہے کہ ہم نئے لوگ شامل کریں کابینہ میں یہ ان کی مرضی ہے کہ وہ اپنے پرانے لوگوں کو رکھیں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی مخلوط کابینہ میں طے شدہ فارمولے کے تحت وزارت اعلیٰ لیگ کو ملنے کے بعد بھی وزارتوں کی تقسیم کا فارمولہ وہی رہے گا ،یا اس میں کوئی تبدیلی ہوگی؟یہ تو وقت ہی بتائے گا،مگر یہ حقیقت ہے کہ اب تک وزارتوں کا اعلان نہ ہونے سے عوامی مسائل کا حل تو تعطل کا شکار ہوا ہی ،اس کے ساتھ ساتھ اتحادی جماعتوں میں اس سلسلے میں اتفاق پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…