جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

تھر : غذائیت کی کمی سے پھر بچے مرنے لگے، 4 روز میں تعداد8ہوگئی

datetime 4  جنوری‬‮  2016 |

مٹھی(نیوز ڈیسک)مٹھی کے سول اسپتال میں غذائیت کی کمی اور بیماریوں کے باعث تین بچے انتقال کرگئے۔ 4 روز میں مرنیوالے بچوں کی تعداد 8 ہوگئی۔تھر کے صحرا میں خوراک کی کمی کا عفریت سال 2015 میں بھی 376 معصوم بچوں کی جانیں نگل گیا ، ضلع بھر میں صحت کی سہولیات کے فقدان نے 218 دیگر مریضوں کی جان بھی لے لی۔ تمام تردعوو?ں کے باوجود حکومت سندھ تھری عوام کوصحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔سول اسپتال مٹھی سمیت صحرائے تھر کے سرکاری اسپتالوں میں غذائیت کی کمی اور اس سے متعلقہ امراض کے نتیجے میں ہونے والی اموات کا سلسلہ سال2015میں بھی نہ رْک سکا ، ضلع بھرمیں پانچ سال سے کم عمربچوں کی اموات کی تعداد 376 ہوگئی جبکہ 218 دیگرمریض بھی اسپتالوں میں سہولیات کے فقدان کی بھینٹ چڑھ گئے۔ محکمہ صحت تھر پارکر کے مطابق سول اسپتال مٹھی میں گریڈ 17سے19کے ڈاکٹروں کی 24اورضلع بھر میں 298آسامیاں خالی ہیں۔ مٹھی کا سول اسپتال 174بیڈز پر مشتمل ہے مگر اسے بجٹ صرف 74بیڈ کا مل رہا ہے جبکہ 215ڈسپنسریوں میں سے تین ہزار روپے کی اوسط سے صرف 30ڈسپنسریوں کو بجٹ مل رہا ہے ،وزیراعلی سندھ نے گزشتہ برس سول اسپتال کا بجٹ دو کروڑروپے ماہانہ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن تاحال بات اعلان سے آگے نہ بڑھ سکی۔وزیر اعظم میاں نواز شریف سے لیکر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری، شریک چیئرمین اورسابق صدر آصف علی زرداری اور سندھ حکومت کے وزراء کی فوج نے اپنے دوروں کے دوران تھر اور تھری عوام کی قسمت بدلنے کے بڑے بڑے دعوے کیے مگر نہ تو علاقہ مکینوں کی حالت بدلی اور نہ ہی مرنے والوں کی تعداد میں کوئی کمی آ سکی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…