پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

سعودی ٹیلی کام کمپنیوں کا انٹرنیٹ فون سروس بند کرنے پرغور

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

جدہ(آئی این پی)سعودی عرب میں کام کرنے والی ٹیلی کام کمپنیوں نے مشترکہ طور پر صارفین کو انٹرنیٹ پر مبنی ٹیلی فون خدمات استعمال کرنے سے روکنے پر غور شروع کردےا ، اس اقدام کا مقصد فون کالز کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافہ کرنا ہے۔غےر ملکی مےڈےا کے مطابق سعودی عرب مےں بڑی ٹیلی کام کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے حکام کا کہنا ہے کہ آیندہ چند ہفتوں کے دوران نیٹ پر مبنی ٹیلی فون خدمات کو بند کردیا جائے گا تاکہ یہ کمپنیاں فون کی مد میں اپنی سالانہ آمدن میں اضافہ کرسکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنیاں صارفین کو مطلع یا انتباہ کیے بغیر یہ سروسز ختم کرسکتی ہیں۔ایک سعودی وکیل ڈاکٹر ابراہیم زمزمی نے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیوں کو اپنے صارفین کی امیدوں اور توقعات پر پورا اترنا چاہیے۔ایک عرب روزنامے الوطن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ٹیلی کمیونیکشن کی عالمی مارکیٹ بالکل کھلی ہے اور ٹیلی کام کمپنیاں اجارہ داری کے ذریعے اربوں ریال منافع نہیں کما سکیں گی۔انھیں اپنے صارفین کو سہولتیں مہیا کرنا ہوں گی۔وکیل زمزمی نے مزید کہا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کو اپنی مارکیٹنگ پالیسیاں وضع کرتے وقت صارفین کی مالی استعداد کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ صارفین ان کی خدمات سے استفادہ کرسکیں۔یہ کمپنیوں کے منافع کمانے کے لیے ایک اہم مارکیٹنگ حکمت عملی ہوسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹیلی کام کمپنیاں اپنی اجارہ دارانہ پالیسیوں کو مسلط کرنے کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں تو وہ صارفین سے محروم ہوجائیں گی کیونکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑی تیز رفتاری سے پیش رفت ہو رہی ہے اور ان کا بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن سسٹمز پر کوئی کنٹرول نہیں ہوگا۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں اس وقت لاکھوں لوگ بین الاقوامی فون کالز کے لیے نیٹ پر مبنی ایپلی کیشنز کو استعمال کرتے ہیں۔دنیا بھر میں قریباً 90 کروڑ افراد اپنے خاندان یا دوستوں سے بات چیت کے لیے وٹس اپ ایپلی کیشن کا استعمال کرتے ہیں۔75 کروڑ میسنجر ،16 کروڑ ٹانگو اور 12 کروڑ کے لگ بھگ لائن فون استعمال کرتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…