لاہور (آئی این پی )اورنج لائن ٹرین منصوبے کی آڑ میں نکلسن روڈ پر واقع 60 سال پرانی جامع مسجد المنور کو شہید کرنے کا حکم نامہ جاری کرنے کے خلاف نکلسن روڈ ، میکلوڈ روڈ اور گرد و نواح کے تاجروں اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے دوسرے جمعہ کو بھی زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے فوراً بعد طلبائ، وکلائ، تاجروں اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد روڈ پر نکل آئے اور ریلی کی صورت میں لاہور ہوٹل چوک میں پہنچ کر زبردست احتجاج کرتے ہوئے علامتی دھرنا دیا گیا اور مسجد کی شہادت کے حکم نامہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ اس موقع پرزبردست جذباتی ماحول دیکھنے میں آیا ۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے جن پر متبادل جگہ کی فراہمی تک مسجد کی شہادت نامنظور نامنظور کے مطالبات درج تھے ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگرجامع مسجد المنور نکلسن روڈ کو شہید کر دیا گیا تو مسجد کے گردو نواح کے پانچ وقت کے سینکڑوں نمازی اس نعمت سے محروم ہوجائیں گے اور ان کے لیے نماز جیسے اہم فریضے کی ادائیگی مشکل ہوجائے گی۔ جس طرح میٹرو بس کے روٹ میں آنے والی مساجد کو متبادل جگہیں فراہم کی گئیں تھیں ہمیں بھی فراہم کریں بصورت دیگر ہم حکومتی انتظامیہ کو مسجد شہید کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر مسجد کو شہید کیاجانا اتنا ہی ضروری ہے تو حکومت اسے متبادل جگہ پر تعمیر کر کے دے تاکہ نکلسن روڈ ، میکلوڈ روڈ ، سلائی مشین مارکیٹ ،ٹیگور پارک، قلعہ گجر سنگھ ، حاجی کیمپ اور گرد و نواح کے نمازیوں کو کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئے اور نماز جیسے اہم فریضے کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مظاہرے سے خطیب جامع مسجد المنور مولانا طاہر طیب بھٹوی ، مسجد انتظامیہ کے سربراہ حاجی کرامت اللہ ، حاجی محمد سعید، حاجی یونس ،مولانا بشیر احمد خاکی ، حاجی عبد الرﺅف اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ خوش آئند ہے لیکن اس کی آڑ میں جامع مسجد المنور کو شہید کرنے کا حکم نامہ قابل مذمت ہے۔ نمازیوں کو مسجد سے محروم کرنا ظلم ہے۔ اگر تاریخی عمارتوں کو ورثہ قرار دے کر انہیں محفوظ کیا جاسکتا ہے تو 60 سال سے قائم اس مسجد کو بھی محفوظ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ سے دوہزار نمازی اس مسجد میں نماز جمعہ کے اہم فریضے کو ادا کرتے ہیں جن کے لیے کوئی متبادل بندوبست موجود نہیں ہے۔ مظاہرین نے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خادم حرمین الشریفین تو مساجد کو نہ صرف تعمیر کرتے ہیں بلکہ ان میں وقتاً فوقتاً توسیع بھی کرتے ہیں لیکن آپ کیسے خادم اعلیٰ ہیں جو ساٹھ سال سے قائم مسجد کو شہید کرنے کے درپے ہیںخدارا مسجد کا احترام ملحوظ رکھا جائے۔
اورنج لائن ٹرین منصوبے کی آڑ میں 60 سال پرانی جامع مسجد المنور کو شہید کرنے کا حکم نامہ جاری
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)
-
پیٹرول سبسڈی لینے والوں کےلیےخوشخبری، وزیراعظم کا اہم اعلان
-
تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
طالبہ لائبہ سے فراڈ کرنے والے ملزم کی ابتدائی شناخت سامنے آگئی
-
طالبہ لائبہ کا خودکشی سے قبل والد کیلیے ماموں کے موبائل پر بھیجا گیا آخری پیغام سامنے آگیا
-
ناناپاٹیکر کی موت کی وجہ کیا بنی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نئے انکشافات سامنے آگئے
-
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی گرفتار
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانی مسافروں کے لیے اہم اعلان
-
گھر بیٹھے شناختی کارڈ پر تصویر اور مستقل پتہ تبدیل کروانے کا طریقہ
-
سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
-
معروف اینکر اقرار الحسن کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لیے بڑی سہولت متعارف
-
پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
-
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج ایک ساتھ لگانے کا فیصلہ



















































