اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

بہاؤالدین زکریایونیورسٹی لاہورکیمپس ،الحاق کامعاملہ حل نہ ہواتو5ہزارطلباء سڑکوں پرہونگے ،منیراحمدبھٹی

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)بی زیڈیوکے نئے وائس چانسلرنے لاہورکیمپس سے اعلان لاتعلقی کرکے پانچ ہزارطلباء کامستقبل داؤپرلگادیاہے ۔یونیورسٹی سینڈیکٹ اوراس کی کمیٹی نہ صرف الحاق کی تصدیق کرچکی ہے بلکہ بی زیڈیوکے اپنے پروفیسرلاہورکیمپس کے طلباء کے امتحانات لے چکے ہیں ۔اب وفاقی اورصوبائی دارلحکومت کی ہائرایجوکیشن کمیشن کی کمیٹیوں کے مابین معاملے کی چھان بین کے حوالے سے احتیارات کی جنگ چل رہی ہے ۔معاملے کافوری حل نہ نکالاگیاتوطلباء وزیراعظم کی کی دوہفتے کی مہلت کے بعد ایک بارپھرسڑکوں پرہونگے ۔ان خیالات کااظہاربہاؤالدین یونیورسٹی لاہورکیمپس کے چیرمین منیراحمدبھٹی نے ایک قومی اخبارکوانٹرویودیتے ہوئے کیا۔ان کاکہناتھاکہ 20مئی 2013ء کوویسٹ کانٹی نینٹل گروپ کے طاہرچوہدری ننےانہیں بی زیڈیولاہورکیمپس کے50فیصدپارٹنرشپ کی آفردی اورساتھ ہی لاہورکیمپس کے لئے یونیورسٹی کی طرف سے این اوسی ،ہائرایجوکیشن کی سمری وزیراعلی کی طرف سے منظورشدہ سمری کی دستاویزات دکھائیں ۔بی زیڈیوکے رجسٹرارنے ان دستاویزات کودرست قراردیااور13جولائی 2015ء کویونیورسٹی سینڈیکیٹ نے لاہورکیمپس کی منظوری دی تو25جولائی 2013کوانہوں نے طاہرچوہدری سے بی زیڈیولاہورکیمپس کی مساوی پارٹنرشپ کامعاہدہ کرتے ہوئے ابتدائی طورپرتین کروڑمیں سے دوکروڑروپے اداکردیئے جس کے بعدانہوں نے طلباء کی رجسٹریشن کھولی تو3ہزارطلباء کوداخلہ دیاگیا۔بعدازاں 19ستمبر2013ء کوانہوں نے اپنے ففٹی پرسنٹ کے پارٹنرطاہرچوہدری کوچارکروڑاداکرکے کیمپس کی مکمل ملکیت حاصل کرلی لیکن اسی روز9ستمبر2013کوہی یونیورسٹی رجسٹرارنے ایک خط لاہورکیمپس کی انتظامیہ کولکھاجس میں بیان کیاگیاکہ لاہورفرنچرائزکی منظوری واپس لے لی گئی ہے ۔منیراحمدبھٹی نے بتایاکہ رجسٹرارکایہ خط انتظامیہ کو21ستمبرکوملاجس میں کیمپس انتظامیہ نے یونیورسٹی انتظامیہ نے اس فیصلے کے خلاف حکم امتناعی حاصل کرلیا۔بعدازاں یونیورسٹی کی انکوائری کمیٹی نے لاہورکیمپس کے حق میں رپورٹ دی توسنڈیکیٹ نے کیمپس کی دوبارہ منظوری دے دی اورطلباء کی رجسٹریشن بی زیڈیومیں ہونے لگی ۔یونیورسٹی کے پروفیسرزاوردیگرفیکلٹی نے لاہورکیمپس کے طلباء کاامتحان لیااور ان کے نتائج تیارکئے جویونیورسٹی کے کپمیوٹرزمیں محفوظ ہیں ۔
۔پھر15اکتوبر2015کویونیورسٹی کے وائس چانسلرکوتبدیل کردیاگیاتونئے وی سی طاہرامین نے اعلان کیاکہ لاہورکیمپس سے ہماراکوئی تعلق نہیں ہیاورساتھ ہی یونیورسٹی کی ویب سائیٹ سے پچھلے دوبرسوں سے چلنے والے کیمپس کالنک بھی ختم کرڈالا۔اس پرطلباء سڑکوں پرآگئے جس کانوٹس وزیراعظم اورصوبائی وزیرتعلیم پنجاب رانامشہودنے لیااوررانامشہود نے میڈیاکے روبروکہاکہ کیمپس بی زیڈیوکاہی ہے ۔طلباء کاتعلیمی حرج نہیں ہونے دینگے۔طلباء کوڈگریاں ملیں گی ۔لاہورکیمپس کے
چیرمین نے مزیدبتایاکہ صوبائی وزیرتعلیم کے بیان کے بعد پھریہی بیان وی سی طاہرامین نے بھی دیاجبکہ وزیراعظم نے معاملے کاحل نکالنے کے لئے دوہفتے کاوقت دیاہے لیکن اسلام آباداورلاہورہائی ایجوکیشن کمیشن کی ٹیمیں ایک دوسرے کے اختیارات کے حوالے تذبذب کاشکارہیں جس کے باعث معاملہ التواء میں جارہاہے ۔اگردوہفتوں تک طلباء کوحق نہ دیاگیاتووہ ایک بارپھرسڑکوں پرہونگے کیونکہ انہیں نہ ڈگری جاری ہورہی ہے اورنہ ہی انہیں کہیں نوکری مل رہی ہے ۔منیراحمدبھٹی کاکہناتھاکہ بی زیڈیوکے سابق وی سی انتہائی شریف النفس اورایماندارشخص ہیں ۔نیب نے انہیں اوران کے (منیراحمدبھٹی کے ) بیٹے کوغلط فہمی کی بناپرگرفتارکررکھاہے اوراب ان کے دوسرے بیٹے کوبھی نیب کی طرف سے نوٹس بھیجاگیاہے ۔منیراحمدبھٹی کہتے ہیں کہ لاہورکیمپس کے مالک اورچیرمین وہ خودہیں لیکن نیب نے ان کے بیٹے کوگرفتارکرلیاہے ۔15

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…