اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

موسمیاتی تبدیلی سے ملک کو سالانہ 20 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے: قومی اسمبلی میں پیش کی گئی رپورٹ میں انکشاف

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حکومتی تخمینہ کے مطابق پاکستان کو منفی موسمیاتی تبدیلیوں سے تقریباً 20 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔قومی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے جمع کرائی گئی تفصیلی رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان اْن ممالک میں سے ہے جو پچھلے چند سالوں میں موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہوئے، جبکہ موسم کے بڑھتے ہوئے اثرات سے بچنے کے لیے اس کے پاس، تکنیکی اور مالیاتی وسائل کی بھی کمی ہے۔حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ملک کے لیے اس وقت سب سے بڑا ٹاسک یہ ہے کہ وہ خود کو ان موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے قابل بنائے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما رائے حسن نواز خان کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اٹھائے گئے سوال کے تحریری جواب میں وزارت موسمیاتی تبدیلی کی طرف سے کہا گیا کہ ساحلی اور سمندری ماحول، خشک زمین کا ایکو سسٹم، زراعت، لائیواسٹاک، جنگلات اور صحت کے شعبے حالیہ چند برسوں میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہوئے.وزارت موسمیاتی تبدیلی کے جواب میں مزید کہا گیا کہ ان تبدیلیوں سے ملک کو خوراک، پانی اور توانائی کی کمی کا بھی سامنا ہے۔واضح رہے کہ ایک طرف حکومت موسمیاتی تبدیلیوں سے ملک کو اربوں ڈالر کے نقصان کا اعتراف کر رہی ہے تو دوسری طرف اس حوالے سے اس کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سینیٹر مشاہد اللہ کے رواں سال اگست میں، وزیر موسمیاتی تبدیلی کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد اب تک کوئی دوسرا وزیر، اْن کی جگہ مقرر نہیں کیا گیا.سینیٹر مشاہد اللہ خان سے، برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کو دیئے گئے متنازع انٹرویو کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے استعفیٰ طلب کیا تھا۔حکومتی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور نقصانات کو کم کرنے کے لیے، صرف مناسب اقدامات اٹھانے اور انہیں لاگو کرکے ہی بچا جاسکتا ہے۔خیال رہے کہ رائے حسن کی جانب سے یہ سوال بھی کیا گیا تھا کہ، کیا حکومت نے موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کے تعین کے لیے کوئی سائنٹیفک اسٹڈی کی ہے یا نہیں، لیکن حکومتی جواب میں صرف اسلام آباد کے موسم میں آنے والی تبدیلیوں کے حوالے سے جون 2015 کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے جواب دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…