بدھ‬‮ ، 15 اپریل‬‮ 2026 

ملک میں پولیو مہم رکنے کا خدشہ

datetime 21  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) صحت کے محکموں کو ملک میں آئندہ 3 سالوں تک پولیو کے خلاف مہم جاری رکھنے کے لیے 311 ملین ڈالر درکار ہیں جس کا انتظام نہ ہونے پر ملک میں پولیو مہم رکنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ملک سے پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مدد کرنے والے ڈونرز نے بھی یہ کہہ کر ہاتھ کھینچ لیے ہیں کہ جب تک پروگرام کے پراجیکٹ کانسپٹ (پی سی۔ 1) کی منظوری نہیں دے دی جاتی وہ پولیو کے خلاف پاکستان کی مہم کی حمایت اور فنڈز جاری نہیں کرسکتے۔ملک میں آئندہ تین سالوں کے لیے پولیو مہم کا جنوری 2016 میں آغاز ہونا ہے جبکہ شعبہ صحت کے ادارے بھی عالمی برادری کو یہ یقین دہانی کراچکے ہیں کہ 2018 تک پاکستان سے پولیو کا خاتمہ ہوجائے گا۔اگر 2018 تک پاکستان سے پولیو کا خاتمہ ہوجاتا ہے تو اسے کئی دیگر ممالک کی طرح ’پولیو سے آزاد‘ ملک کا درجہ دے دیا جائے گا۔حکومت اگر تین سالوں کے لیے پولیو مہم کی منظوری دے دیتی ہے تو اس سے ڈونرز کا اعتماد بحال ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی جانب سے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے گا۔اسی حوالے سے پروگرام کے عالمی ڈونرز کی اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کی کوآرڈینیشن میٹنگ ہوئی جس میں بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاو¿نڈیشن (بی ایم جی ایف)، حکومت جاپان، جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جے آئی سی اے)، عالمی بینک، اسلامک ڈویلپمنٹ بینک، یو ایس اے آئی ڈی، امریکا کے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول، روٹیری انٹرنیشنل، عالمی ادارہ صحت اور یونیسف کے نمائندوں کے علاوہ چین، بحرین، ترکی اور آسٹریلین سفارتخانوں نے بھی شرکت کی۔نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے نمائندے نے ڈان کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان میں آئندہ تین سالوں تک پولیو کے خلاف مہم جاری رکھنے کے لیے 311 ملین ڈالر درکار ہیں جن کی فراہمی کے بغیر مہم کو جاری نہیں رکھا جاسکتا۔نمائندے کا کہنا تھا کہ ہم ڈونر ایجنسیوں اور دوستانہ تعلقات رکھنے والے ممالک سے مہم کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈ اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ حکومت پاکستان پر اس کا بوجھ نہ آئے تاہم چند حکومتی اداروں کی جانب سے اس طرف توجہ نہ دیئے جانے کے باعث اس بات کا خطرہ ہے کہ ڈونر ایجنسیوں سے ملنے والے فنڈز میں تاخیر ہوجائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ مہم کے لیے درکار 311 ملین ڈالر میں سے حکومت پاکستان کو 100 ملین ڈالر ادا کرنے ہیں جبکہ دیگر رقم عالمی ڈونرز کی جانب سے مہیا کی جائے گی۔حکومت جو رقم ادا کرے گی وہ اسے اسلامک ڈویلپمنٹ بینک بطور قرض دے گا تاہم حکومت کو صرف اصل رقم ہی بینک کو چکانا ہوگی جبکہ قرض کا سود بی ایم جی ایف ادا کرے گا۔نمائندے کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت جاپان سے مہم کے لیے بطور فنڈ 100 ملین ڈالر کی درخواست کی ہے جبکہ 111 ملین ڈالر دیگر ڈونر ایجنسیوں اور ممالک کی جانب سے فراہم کی جائے گی۔ڈونر ایجنسیوں اور ممالک کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نمائندوں نے کہا کہ جب تک حکومت پاکستان پولیو کے خلاف مہم کی ذمہ داری نہیں لیتی وہ کوئی مدد نہیں کرسکتے۔این ایچ ایس کے نمائندے نے کہا کہ 2016 سے 2018 تک پولیو پروگرام کے حوالے سے پراجیکٹ کانسپٹ (پی سی۔ 1) اگست کے آخر میں پلاننگ ڈویڑن کو جمع کرایا گیا تھا تاہم کسی نہ کسی وجہ سے اب تک اس کی منظوری نہیں دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کی سب سے بڑی کام یابی


وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…