اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

کراچی سے انسانی اسمگلنگ کے گھناؤنے کاروبار کا پردہ چاک

datetime 1  اکتوبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک).کراچی سے انسانی اسمگلنگ کے گھنائونے کاروبار کا پردہ چاک ہوگیا، پاکستان سے ہونیوالی انسانی اسمگلنگ سے دہشتگردوں نے فائدہ اٹھانا شروع کردیا، بظاہر روزگار کیلئے جانیوالوں کے بھیس میں انتہاپسندوں کو بھی بیرونِ ملک بھیجے جانے کا انکشاف سامنے آگیا، حکومتی دعووں کے باوجود انسانی اسمگلنگ روکنے والا کوئی نہیں۔ ہوشربا اور سنسنی خیز انکشافات کے مطابق انسانی اسمگلنگ کے لیے کراچی سے بلوچستان اور پھر پڑوسی ممالک کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے، انسانی اسمگلنگ کے تین راستے ہیں، دو راستے پہلے زمینی اور پھر سمندری جبکہ ایک راستہ مکمل زمینی ہے۔ پہلا زمینی راستہ کراچی سے شروع ہو کر تفتان پر ختم ہوتا ہے، اس راستے کے لیے کراچی سے خضدار، مستونگ، نوشکی، چاغی اور دالبندین سے تفتان پہنچاجاتا ہے، تفتان پاکستانی ضلع ہے اور پھر یہاں سے ایرانی شہر زاہدان میں داخل ہواجاتاہے۔ دوسرا راستہ کراچی سے گوادر، جیونی ، تربت اور پھر مند بلوکا ہے،مند بلو کے بعد سمندری راستہ اختیار کیاجاتا ہے جو ایران، عمان، مسقط اور دیگر ممالک تک جاتا ہے۔ تیسرا راستہ کراچی سے گوادر، جیونی اور پھر وہاں سے سمندری راستہ ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ انسانی اسمگلر زلوگوں کو ان راستوں پر بھیجنے کےلیے بھی ڈھائی سے 5لاکھ روپے لیتے ہیں۔ داعش کے لیے جانے والے گرفتار کئے گئے زین شاہد اور بلال رند نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ ان دشوار گزار راستوں پر کئی کئی دن سفر کرایا جاتا ہے، یہ سفر زمینی اور سمندری دونوں طرح کا ہوتا ہے،پورے دن میں کھانے کے لیے صرف ایک کھجور اور پانی کی بوتل دی جاتی ہے۔موسم کی سختی، حبس،گھٹن زدہ ماحول اور تنگ جگہ اور تقریبا ًنہ ہونے کے برابر خوراک میں جو بچ جائے اس کا سفر جاری رہتا ہے، جومرجائے اسے کہیں ویرانے میں پھینک دیا جاتا ہے۔ زمینی راستے میں ایک ڈبل کیبن گاڑی میں 15سے20 لوگوں کو سفر کرایا جاتا ہے جبکہ سمند میں ایک ہی لانچ میں درجنوں افراد بھر دیئے جاتے ہیں۔ کئی کئی دن جنگلوں اور پہاڑوں میں پیدل بھی چلایا جاتا ہے۔اس دوران اگر دیگر ممالک کی فورسز کے ہاتھوں بچ گئے تو پھر ہی اپنی منزل پر ورنہ گولی زندگی چھین سکتی ہے ، پکڑے گئے تو ڈی پورٹ ہوکر پاکستان واپس ۔ انسانی اسمگلنگ روکنے کی اولین ذمہ داری ایف آئی اے، کوسٹ گارڈز اور سمیت دیگر اداروں کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…