اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

وزیر مملکت پیٹرولیم کو متعلقہ حکام کی جانب سے لا علم رکھے جانے اوران سے چیزیں چھپائے جانے کاانکشاف

datetime 30  ستمبر‬‮  2015 |

کہ بلوچستان پاکستان کا وہ واحد صوبہ تھا جہاں گیس سب سے پہلے دریافت کی گئی اور وزیر اعظم کا خیال تھا کہ صوبہ بلوچستان کا سب سے پسماندہ علاقوں میں قدرتی گیس فراہم کرنے کا مطالبہ 1950ءکی دہائی سے کیا جا رہا تھا اور ایل پی جی گیس کی فراہمی سے لاکھوں لوگوں کو مطمئن کیا جا سکتا تھالیکن ایسانہیں ہوا اور بلوچستان کے عوام میں احساس محرومی بڑھ گئی وزارت پیٹرولیم نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بلوچستان کے صرف13شہروں میں قدرتی گیس فراہم کی جا رہی ہے جو شہری آبادی کا59فیصد حصہ بنتا ہے باقی49فیصد حصہ اب بھی گیس سے محروم ہے ۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کے منصوبے کے مطابق ایک پلانٹ بلوچستا ن کے دور دراز علاقوں کے10ہزار گھروں کو قدرتی گیس فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا تھالیکن وہ نہیں جانتے کہ یہ منصوبہ کیوں شروع نہیں کیا گیا البتہ کاغذ میں یہ منصوبہ ضرور موجود ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ تاخیری حربے میری ہی وزارت کے بیوروکریٹس کی طرف سے استعمال کئے جا رہے ہیں ۔بلوچستان کے ساحلی ضلع لسبیلہ سے تعلق رکھنے والے وزیر مملکت برائے پیٹرولیم جام کمال خان کے مطابق وزارت پیٹرولیم کے کچھ سینئر حکام تمام پالیسی معاملات میں مجھے مکمل طور پر نظر انداز کر رہے ہیں ایساوفاقی وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی اور وزارت کے ایک سینئر بیوروکریٹ کی ہدایت پر ہو رہا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…