بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

رینجرز ڈاکٹر عاصم کی بیماری کی حقیقت سامنے لے آئے

datetime 23  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک)سندھ رینجرز نے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم کی میڈیکل رپورٹ سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرادی ہے۔رینجرز کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی ہارٹ اٹیک نہیں ہوا۔زیر حراست انکا طبی معائنہ ہوتا رہا ہے۔سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم کی اہلیہ نے ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی کہ رینجرز کی جانب سے میڈیکل معائنہ نہ کرانے پر انہیں ہارٹ اٹیک ہوا۔رینجرز نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی ہے کہ سابق وفاقی وزیر کو طبیعت کی خرابی کی وجہ سے اسپتال لایا گیا۔انہیں ہارٹ اٹیک نہیں ہوا جس کی تصدیق اسپتال کی مکمل طبی رپورٹ سے ہوتی ہے۔میڈیکل بورڈ زیر حراست انکا طبی معائنہ کرتا رہا ہے،وہ مکمل ٹھیک ہیں اسپتال میں رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔دوسری جانب اسپتال ذرائع کے مطابق تیزابیت بڑھنے کے باعث ڈاکٹر عاصم کے گردے متاثر ہوئے۔دریں اثناءکراچی میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز میں زیر علاج سابق وفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کا گردے کا کریٹنن لیول نارمل ہوگیا ہے ، اینجیو گرافی کی جاسکتی ہے ۔تفصیلات کے مطابق این آئی سی وی ڈی میں زیر علاج کرپشن کے الزامات میں ملوث ڈاکٹر عاصم حسین کی طبیعت بہتر ہے ،اسپتال ذرائع کے مطابق گزشتہ روز کریٹنن لیول زیادہ ہونے کی وجہ سے انجیو گرافی نہیں کی جاسکی تھی ۔ تاہم بدھ کو ڈاکٹر عاصم کی طبیعت بہتر رہی اور گردوں کا کریٹنن لیول بھی نارمل ہوگیا ہے جس کے بعد انجیو گرافی کی جاسکتی ہے ۔ دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے ڈاکٹرعاصم حسین کے معائنے کے حوالے سے میڈیکل بورڈ تاحال نہیں بنایا گیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…