بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ نے بھارت کیلئے بڑا کام کردیا

datetime 23  ستمبر‬‮  2015 |

واشنگٹن (نیوزڈیسک)امریکہ نے بھارت کیلئے بڑا کام کردیا،سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کی حمایت کردی،بھارت اور امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف باہمی تعاون میں تیزی لانے کا اعلان کرتے ہوئے لشکر طیبہ، جیش محمد، ڈی کمپنی، القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک کو جنوبی ایشیا کے استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے جبکہ امریکہ نے سلامتی کونسل میں بھارت کو مستقل رکنیت دینے کی بھی حمایت کی ہے اور مختلف شعبوںمیں تعاون بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان سے ممبئی دھماکوں کے ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ دہرایا ہے۔واشنگٹن میں سٹریٹیجک اور تجارتی شراکت پر دو دنوں تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد دونوں ملکوں نے پہلی بار دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔اس بیان میں دونوں ہی ملکوں نے پاکستان سے ممبئی پر ہوئے حملے کے ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ امریکہ نے بھارت کی پریشانیوں کو سمجھا ہے اور دہشت گردی کے خلاف ساتھ مل کر کارروائی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اس مشترکہ بیان میں گرداس پور اور اودھم پور میں گذشتہ دنوں ہوئے شددت پسند حملوں پر بھی سخت تنقید کی گئی ہے۔امریکہ اور بھارت نے اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کو ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کو شکست دینے کے لیے مل کر کام کرنے کی بھی بات کی۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ گذشتہ چھ برسوں میں امریکی خفیہ اداروں نے اتحادی ملکوں، خاص طور سے بھارت کے ساتھ مل کر کوشش کی ہے کہ حملوں کو انجام دینے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔ممبئی حملوں کے بعد اس طرح کی کوششیں تیز ہوئی ہیں اور ہم جانتے ہیں یہ آسان کام نہیں ہے۔ لیکن ہماری کوشش یہی ہے کہ ہم ان حملوں کو پہلے ہی روک سکیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے بھی دونوں ملکوں نے باہمی تعاون جاری رکھنے کی بات کی ہے۔دہشت گردی کے علاوہ اس ڈائیلاگ میں باہمی تجارت میں پانچ گنا اضافہ کرنے کی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔امریکی وزیر تجارت پینی پرذکر کا کہنا تھا کہ اسی ہفتے بھارت نے امریکی کمپنی بوئنگ سے اپاچی اور چنوک ہیلی کاپٹر خریدنے کا جو معاہدہ کیا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ وزیر اعظم مودی بھارت کو کاروبار کے لیے آسان جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ دو دنوں کی اس بات چیت نے 28 ستمبر کو نیویارک میں صدر اوباما اور وزیر اعظم مودی کی ہونے والی ملاقات کا ایجنڈا طے کر دیا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اوباما حکومت میں شاید یہ آخری موقع ہوگا کہ دونوں ملک آنے والے دنوں میں باہمی تعلقات کی سمت کو طے کر سکیں۔بھارتی وزیرخارجہ سشماسوراج نے مشترکہ بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور بھارت نے القاعدہ، لشکر طیبہ،جیش محمد،داو¿د ابراہیم، حقانی نیٹ ورک اور دیگر علاقائی گروپوں کو جنوبی ایشیا کے لئے خطرہ قراردیا۔ایک سوال کے جواب میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ اس ملاقات کا مقصد چین سے درپیش ممکنہ خطرہ کا جائزہ لینا تھااور سشماسوراج نے کہا کہ دوطرفہ ملاقات میں چین کے بارے میں کوئی بات بھی نہیں ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…