جمعہ‬‮ ، 17 اپریل‬‮ 2026 

امریکہ نے بھارت کیلئے بڑا کام کردیا

datetime 23  ستمبر‬‮  2015 |

واشنگٹن (نیوزڈیسک)امریکہ نے بھارت کیلئے بڑا کام کردیا،سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کی حمایت کردی،بھارت اور امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف باہمی تعاون میں تیزی لانے کا اعلان کرتے ہوئے لشکر طیبہ، جیش محمد، ڈی کمپنی، القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک کو جنوبی ایشیا کے استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے جبکہ امریکہ نے سلامتی کونسل میں بھارت کو مستقل رکنیت دینے کی بھی حمایت کی ہے اور مختلف شعبوںمیں تعاون بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان سے ممبئی دھماکوں کے ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ دہرایا ہے۔واشنگٹن میں سٹریٹیجک اور تجارتی شراکت پر دو دنوں تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد دونوں ملکوں نے پہلی بار دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔اس بیان میں دونوں ہی ملکوں نے پاکستان سے ممبئی پر ہوئے حملے کے ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ امریکہ نے بھارت کی پریشانیوں کو سمجھا ہے اور دہشت گردی کے خلاف ساتھ مل کر کارروائی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اس مشترکہ بیان میں گرداس پور اور اودھم پور میں گذشتہ دنوں ہوئے شددت پسند حملوں پر بھی سخت تنقید کی گئی ہے۔امریکہ اور بھارت نے اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کو ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کو شکست دینے کے لیے مل کر کام کرنے کی بھی بات کی۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ گذشتہ چھ برسوں میں امریکی خفیہ اداروں نے اتحادی ملکوں، خاص طور سے بھارت کے ساتھ مل کر کوشش کی ہے کہ حملوں کو انجام دینے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔ممبئی حملوں کے بعد اس طرح کی کوششیں تیز ہوئی ہیں اور ہم جانتے ہیں یہ آسان کام نہیں ہے۔ لیکن ہماری کوشش یہی ہے کہ ہم ان حملوں کو پہلے ہی روک سکیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے بھی دونوں ملکوں نے باہمی تعاون جاری رکھنے کی بات کی ہے۔دہشت گردی کے علاوہ اس ڈائیلاگ میں باہمی تجارت میں پانچ گنا اضافہ کرنے کی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔امریکی وزیر تجارت پینی پرذکر کا کہنا تھا کہ اسی ہفتے بھارت نے امریکی کمپنی بوئنگ سے اپاچی اور چنوک ہیلی کاپٹر خریدنے کا جو معاہدہ کیا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ وزیر اعظم مودی بھارت کو کاروبار کے لیے آسان جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ دو دنوں کی اس بات چیت نے 28 ستمبر کو نیویارک میں صدر اوباما اور وزیر اعظم مودی کی ہونے والی ملاقات کا ایجنڈا طے کر دیا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اوباما حکومت میں شاید یہ آخری موقع ہوگا کہ دونوں ملک آنے والے دنوں میں باہمی تعلقات کی سمت کو طے کر سکیں۔بھارتی وزیرخارجہ سشماسوراج نے مشترکہ بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور بھارت نے القاعدہ، لشکر طیبہ،جیش محمد،داو¿د ابراہیم، حقانی نیٹ ورک اور دیگر علاقائی گروپوں کو جنوبی ایشیا کے لئے خطرہ قراردیا۔ایک سوال کے جواب میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ اس ملاقات کا مقصد چین سے درپیش ممکنہ خطرہ کا جائزہ لینا تھااور سشماسوراج نے کہا کہ دوطرفہ ملاقات میں چین کے بارے میں کوئی بات بھی نہیں ہوئی۔



کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…