اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

کراچی،حساس ادارے کی اہم ترین کارروائی،بین الاقوامی بینک کا ملازم”دہشت گرد“گرفتار

datetime 16  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک)انسداد دہشت گردی سیل نے سانحہ صفورا کے گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر ذہنی اور مالی معاونت کار کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ بات ایس ایس پی سی ٹٰی ڈی نوید خواجہ نے بدھ کو پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتائی، انہوں نے بتاےا کہ سانحہ صفورا میں گرفتار ملزمان سعد عزیز اور اظہر عشرت نے دوران تفتیش انکشاف کیا تھا کہ ان کی ذہنی تربیت اور مالی معاونت کرنے والا شخص ڈیفنس کے پوش علاقے میں درس و تدریس دے کر ریاست کے خلاف نوجوانوں کو بغاوت پر اکساتا ہے۔ انہوں نے بتاےا کہ سی ٹی ڈی پولیس نے ڈیفنس کے علاقے میں ملزمان کی نشاندہی پر چھاپہ مار کر ملزم شیبااحمدکو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم نے دوران تفتیش بتاےا کہ وہ پڑوسی اسلامی ممالک اور پاکستان میں کیمیکل کا کاروبار کرتا ہے جبکہ بیرون ممالک سے آنے والی رقوم سے دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتا ہے۔ ملزم نے سانحہ صفورا کے ملزمان کی ذہنی تربیت اور مالی معاونت کا اعتراف بھی کیا ہے جبکہ لاہور سے گرفتار دہشت گرد حسن ظہیر نے بھی شیبا احمد کے بارے میں انکشاف کیاتھا کہ اس نے لاہور میں زخمی دہشت گردوں کے علاج کے لئے اسپتال میں رقوم جمع کرائی تھی۔ ملزم شیبا احمد نے بتاےا کہ اس کا سابقہ تعلق تنظیم اسلامی سے رہا ہے اور وہ 2008ءمیں دبئی سے کراچی منتقل ہوا تھا وہ تجارت کی غرض سے بھارت، مصر ، ایران اور دیگر اسلامی ممالک میں سفر کر چکا ہے۔ ایس ایس پی نوید خواجہ نے بتاےا کہ ملزم کے قبضے سے کمپیوٹر ملا ہے جس کو فارنسک ٹیسٹ کے لیے بھجوا دیا گےا ہے، اس کے کمپیوٹر کے ریکارڈ سے بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم داعش کے پیغامات بھی ملے ہیں جبکہ ملزم کے زیر استعمال بین الاقوامی بینکوں کیے 3 اکاو ¿نٹس کا بھی پتا چلا ہے جبکہ وہ بین الاقوامی بینک کا ملازم بھی ہے۔ اکاو ¿نٹس کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو خط ارسال کیا ہے تا حال ملزم سے تفتیش جاری ہے۔مزید سنسنی خیز انکشافات متوقع ہیں۔ ایس ایس پی نے مزید بتاےا کہ آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے انسداد دہشت گردی کی خصوصی ٹیم کو اچھی کارکردگی پر نقد انعام اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…