لندن سازش ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ذرائع کا ماننا ہے کہ حکومت کو پی ٹی آئی پر بھروسہ نہیں ہے اور اسے ڈر ہے کہ اگر پیپلز پارٹی نے عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے چالیں چلنا شروع کر دیں تو حکومت کو سنگین خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ سندھ کے وزیر شرجیل میمن نے اس نمائندے کو بتایا کہ سندھ میں وفاقی ایجنسیوں کی جانب سے کرپشن کے خلاف مہم کے تحت ہونے والی کارروائیوں میں حالیہ تیزی کی وجہ وفاقی حکومت کا دبائو ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک وفاقی وزیر نے بھی اس بات کی تصدیق کی۔ لیکن، ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد کے منظرنامے اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن کی سخت الفاظ میں نواز شریف حکومت کو تنبیہ نے حکومت کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کیلئے مجبور کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زرداری کی وارننگ کے بعد، ایف آئی اے کے سینئر عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ یوسف رضا گیلانی کو گرفتار نہ کریں۔ اگرچہ ڈی جی ایف آئی اے سے متعدد کوششوں کے باوجود رابطہ نہیں ہو پایا لیکن، ایف آئی اے کے صدر دفتر کے باخبر ذرائع نے اس نمائندے کو بتایا ہے کہ ایف آئی اے یوسف رضا گیلانی کو گرفتار کرنے کیلئے مکمل تیار تھی لیکن پھر اوپر سے احکامات آگئے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ گیلانی کے خلاف تین سے چار مزید مقدمات تیار تھے لیکن حکومت کے زبانی احکامات کے بعد سابق وزیراعظم کے خلاف یہ نئے مقدمات دائر کیے جانے کا معاملہ بھی روک دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کے ترجمان مصدق ملک نے ہفتہ کو رابطہ کرنے پر کہا کہ وہ اس معاملے پر سرکاری موقف کیلئے بعد میں رابطہ کریں گے۔ انہوں نے دی نیوز سے وعدہ کیا کہ وہ رابطہ کریں گے لیکن پیر کی شام یہ خبر فائل کیے جانے تک انہوں نے کوئی وضاحت نہیں دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے حوالے سے کرپشن میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر یوسف رضا گیلانی کے خلاف ٹھوس شواہد اکٹھا کر لیے تھے۔ ان شواہد کی روشنی میں اور گیلانی کے قریبی ساتھی کے بیان کی بنیاد پر ایف آئی اے گزشتہ ماہ کے آخری دنوں میں کراچی آمد کے موقع پر یوسف رضا گیلانی کو گرفتار کرنا چاہتی تھی لیکن حکومت نے ایجنسی کو روک دیا۔ ایف آئی اے نے گیلانی کے دور میں وزیراعظم آفس میں ڈپٹی سیکریٹری کے طور پر کام کرنے والے شخص محمد زبیر کو گرفتار کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، تفتیش کے دوران محمد زبیر نے مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ وہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے روزانہ کی بنیاد پر نقد رقم وصول کرتا تھا اور اس کے بعد وہ یہ رقم آگے بھجوا دیتا تھا۔ ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گیلانی کے خلاف اس کیس میں ٹھوس شواہد اکٹھا کرلیے گئے ہیں۔ عدالت کی جانب سے گیلانی اور امین فہیم کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا واقعہ رینجرز کے ہاتھوں ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کے موقع پر پیش آیا ہے، جس کی وجہ سے نواز شریف حکومت کو پیپلز پارٹی کے شدید دبائو کا سامنا کرنا



















































