کراچی ( نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی10 ستمبر کو اپنے عہدےکاحلف اٹھائیں گے انکا شمار پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھا نے والے ججوں میں ہوتا ہے۔جنہوں نے پرویز مشرف کی جانب سے 3 نومبر 2007ءکو عائد کی جانے والی ایمرجنسی میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا اور معزول کر دیئے گئے تھے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جن کا شجرہ نسب حضرت قطب الدین احمد ہنسوی سے ملتا ہے۔جنگ رپورٹر بلال احمد کے مطابق آپ کے آباو اجداد 1947ءکو جے پور سے ہجرت کرکے سندھ کے شہر حیدر آباد میں آباد ہوئے۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی 30 دسمبر 1951ء کو حیدر آباد ہی میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم کے بعد 1971ءمیں کامرس میں بیچلر کی ڈگری یو نیورسٹی آف سندھ سے حاصل کی اور اسی یونیورسٹی سے 1973میں قانون کی ڈگری لی جس کے بعد آپ وکالت کے پیشے سے منسلک ہو گئے اور وکالت کے لئے10جنوری 1975کو بار کونسل جبکہ 13 نومبر 1977ءکو سندھ ہائی کورٹ اور 14مئی 1987کو سپریم کورٹ میں انرول ہوئے۔آ 2سال تک حیدرآباد سندھ لا کالج میں لیکچرار بھی رہے۔ آپ مئی 1998کو سندھ ہائی کورٹ میں جج تعینات ہوئے اور 7جون 2006سے 2نومبر2007تک سندھ ہائی کورٹ میں بحیثیت ایڈمنسٹریٹر جج بھی رہے تاہم پرویز مشرف کی جانب سے 3نومبر 2007کو عائد کی جانے والی ایمرجنسی میں آپ نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا جس کی پاداش میں آپ کو معزول کر دیا گیا بعدازاں آپ 27اگست 2008کو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے اور 2اگست 2009تک فرائص سرانجام دیئے جس کے بعد آپ 3اگست 2009کو سپریم کورٹ کے جج بنے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے 3جولائی 2014سے 4دسمبر 2014تک قائمقام چیف الیکشن کمشنر کے فرائض بھی سرانجام دیئے۔آپ 4بار صدر ڈسڑکٹ بار حیدر آباد منتخب کئے گئے جبکہ 2مرتبہ سندھ بار کونسل میں حیدر آباد کے لئے ممبر رہے۔ اور 1995کو آپ سندھ بار کونسل کے وائس چیئرمین منتخب ہوئے۔آپ گورنمنٹ لا کالج کے ممبر بورڈ آف گورنر ، این ای ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی کے ممبر سنڈیکیٹ بھی رہے اس کے علاوہ آپ 2000میں سندھ بار کونسل کی انرولمنٹ کمیٹی کے چیئرمین اور 2003میں صوبائی زکوة کونسل کے 3سال تک چیئرمین بھی رہے۔جسٹس انور ظہیر جمالی کی اہلیہ جسٹس اشرف جہاں بھی سندھ ہائیکورٹ کی جج ہیں
نئے چیف جسٹس پاکستان انور ظہیر جمالی کل اپنے عہدے کا حلف اٹھائینگے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)
-
پرائیویٹ سکولوں کیخلاف کریک ڈائون کا فیصلہ
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا
-
وفاقی حکومت کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بارے اہم فیصلہ
-
موسم گرما کی تعطیلات کے حوالے سے وزیر تعلیم کا اہم بیان آگیا
-
خاتون جیلر نے 14 سال قید کی سزا پانے والے قیدی کو اپنا دولہا بنا لیا
-
لاپتہ ہوٹل مالک کو کھانے والا 15 فٹ لمبا مگرمچھ دریا سے نکال کر ہلاک کر دیا گیا
-
نواز شریف نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کر دیا
-
سرکاری ملازمین کیلیے عید الاضحیٰ سے قبل بڑی خوشخبری
-
تیزہواؤں، گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی، الرٹ جاری
-
معرکہ حق، چین نے پاکستان کی فضائیہ کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی تصدیق کردی
-
لاہور،رکشہ دلوانے کے بہانے ساتھ لے جاکر 2لڑکیوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنادیا گیا
-
سی ڈی اے نے 98 غیر قانونی ہاؤسنگ منصوبوں کی فہرست جاری کر دی
-
سونا مزید سستا ہو گیا



















































