ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

1965 کی جنگ ، نعرہ تکبیر کے بعد دشمن کے چار ٹینک تباہ

datetime 3  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) 1965ء میں بھارت کیخلاف جنگ میں پاکستانی سپوتوں نے عظیم قربانیوں کی داستانیں رقم کیں ، ان ہی سپوتوں میں ایک بریگیڈئیر (ر) محمد احمد بھی ہیں جنہوں نے تنہا دشمن کے چار ٹینک تباہ کر دیئے۔جنگ کے دوران اپنی شجاعت کی داستان بیان کرتے ہوئے بریگیڈئیر (ر) محمد احمد نے کہا کہ جنگ کے محاز سے واپسی پر میرے سینئر کرنل نے مجھے بتایا کہ دشمن چارواہ سے پاکستان میں داخل ہو چکا ہے اور تم نے ان کو پیچھے دھکیلنا ہے۔بریگیڈئیر محمد احمد اپنے فوجی دستے کے ساتھ چاروا کی طرف روانہ ہوئے چارواہ کے جنوب میں پہنچنے پر ان کو اندازہ ہوا کہ دشمن ٹینکوں کے ساتھ پاکستان میں داخل ہو چکا ہے۔دشمن کو دیکھتے ہی محمد احمد نے اپنے سکواڈ کو ان پر ٹوٹ پڑنے کا حکم دیا جس کے بعد زبردست فائرنگ اور گولہ باری شروع ہوگئی ، بریگیڈئیر (ر) محمد احمد نے بتایا کہ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے ایک ایسا ٹارگٹ مل گیا جو مجھے نہیں دیکھ سکتا تھا۔انھوں نے بتایا کہ دشمن کے چار ٹینک بالکل میرے سامنے مخالف سمت میں کھڑے تھے اور میں ان کی نظروں سے بالکل اوجھل تھا۔ میں نے سوچا کہ اپنے فوجی جوانوں کو اس طرف موڑ کر دشمن پر حملہ آور ہو جاﺅں لیکن اس میں کافی وقت لگ سکتا تھا۔بریگیڈئیر (ر) محمد احمد نے بتایا کہ میں نے نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے چاروں ٹینکوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر دیا جس کے بعد ایک پر ایک دشمن کے چاروں ٹینک تباہ ہو گئے اور انہیں وہاں سے راہ فرار اختیار کرنا پڑی ، عظیم سپوت کو قوم کا سلام،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…