پیر‬‮ ، 26 جنوری‬‮ 2026 

ماس ٹرانسپورٹ سسٹم،خیبر پختونخوا حکومت کی تجویز وفاقی حکومت نے مسترد کر دی

datetime 1  ستمبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے خیبر پختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (بی او آئی ٹی) کو ہدایت کی ہے کہ وہ نجی شعبہ کی شراکت سے شروع کئے جانے والے منصوبوں کے اجراءاور نجی سرمایہ کاروں کے ساتھ معاہدوں کےلئے مرو جہ قوانین اور قواعد کی سختی سے پابندی کرے۔ انہوں نے بورڈ کو ہدایت کی کہ وہ پشاور ویلی کے چار شہروں کے درمیان ڈبل کیرج سرکلر ریلوے سروس شروع کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاروں کی جانب سے صوبائی دارالحکومت پشاور میں زیر زمین برق رفتار ریلوے سسٹم قائم کرنے کی پیشکش کا بھی تفصیلی جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے۔ منگل کے روز وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں کے پی۔بی او آئی ٹی کے اجلاس کی صدات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ چمکنی سے حیات آباد تک موجودہ ریلوے لائن پر ماس ٹرانسپورٹ سسٹم کے قیام سے متعلق خیبر پختونخوا حکومت کی تجویز وفاقی حکومت نے مسترد کر دی ہے اس لئے مواصلات کے شعبے میں ان تمام تجاویز پر اپنی توانائیاں صرف نہ کی جائیں جنہیں وفاقی حکومت نے ناقابل عمل قرار دے دیا یا ان پر غور میں لیت و لعل سے کام سے کام لیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزارت ریلوے کو پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کے درمیان ڈبل کیرج سرکلر ریلوے نظام قائم کرنے کےلئے صوبائی حکومت کے مجوزہ منصوبے پر آمادہ کر لیا گیا ہے اسلئے اس منصوبے پر کام تیز کر دیا جائے۔ اجلاس کے دوران دبئی انوسٹمنٹ روڈ شو کے نتائج، مالم جبہ تفریحی پراجیکٹ میں پیش رفت اور سیاحت، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں دیگر مجوزہ منصوبوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ان کے آغاز میں رکاوٹیں دور کرنے اور ان پر کام کی رفتار تیز کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے۔ ان منصوبوں میں جنوبی اضلاع میں آئل ریفائنری کا قیام، نتھیا گلی تھیم پارک، ہنڈ، ضلع صوابی میں ٹورسٹ تفریحی پارک، ایوبیہ پارک، ناران چیئرلفٹ اور بھیڑ بکریوں اور کھجوروں کے فارم شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ان منصوبوں کےلئے سرمایہ کاروں کی جانب سے دلچسپی کا اظہار کر دیا گیا ہے اور ان کی بولی کا عمل بھی جلد شروع ہو گا۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے بورڈ کو سختی سے ہدایت کی کہ مختلف منصوبوں کےلئے نجی سرمایہ کاروں کے ساتھ معاہدوں کے وقت مروجہ قواعد اور قوانین پر سختی سے عمل کرے اور اس مقصد کےلئے قانونی ماہرین کی مستقل خدمات حاصل کرے۔ انہوں نے بورڈ اور محکمہ جنگلات سے کہا کہ وہ مالم جبہ منصوبے کی اراضی کے متنازعہ حصہ کے حصول کےلئے بھی اقدامات کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…