اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

سیاسی مخالفین کو ہسپتال میں زہریلے انجکشن لگاکرقتل کرنے اورخواتین ڈاکٹرز اور نرسوں سے جنسی زیادتی کا انکشاف

datetime 1  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)انسداد دہشت گردی کی عدالت نے رینجرز کے ہاتھوں تین ماہ قبل گرفتار ہونے والے عباسی شہید اسپتال کراچی کے ڈائریکٹر فنانس فرید الدین کو 14دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ملزم علاج یا ایمرجنسی میں آنے والے سیاسی مخالفین کو طبی سہولت فراہم کرنے کے بجائے زہریلے انجکشن لگوا کر قتل کرواتا تھا۔تفصیلات کے مطابق رینجرز نے تین ماہ قبل عباسی شہید اسپتال پر چھاپہ مار کر ڈائریکٹر فنانس فریدالدین کو حراست میں لیا تھا۔ فرید الدین کومنگل کے روز سخت سیکورٹی میں رینجرز نے انسداد دہشت گردی کورٹ میں پیش کیا اور 90 دن کی تحویل کی استدعا کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم سے بھتہ خوری، قتل اور دہشت گردوں کی مدد کرنے کی تحقیقات کرنی ہے۔ عدالت نے ملزم کو 90 دن کے لیے رینجرز کے حوالے کیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کی نشاندہی پر رضویہ تھانے کی حدود کھجی گراونڈ کے قبرستان سے بھاری تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا تھا جس کا مقدمہ رضویہ تھانے میں درج کر لیا گیا۔ 90 دن مکمل ہونے کے بعد عدالت نے ملزم کو ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔ رینجرزاور دیگر اداروں نے ملزم سے تفتیش کے بعد ایک ابتدائی تفتیشی رپورٹ بھی تیار کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے جعلی ڈگری کے ذریعے ملازمت حاصل کی ۔ رپورٹ کے مطابق ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ وہ علاج یا ایمرجنسی میں آنے والے سیاسی مخالفین کو طبی سہولت فراہم کرنے کے بجائے زہریلے انجکشن لگوا کر قتل کرواتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق فرید الدین خواتین ڈاکٹرز اور نرسوں کو بلیک میل اور حراساں کر کے زیادتی کا نشانہ بناتا تھا۔ جو خواتین ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف تعاون نہیں کرتیں ملزم انکی تنخواہیں روک کر انھیں بلیک میل کرتا تھا۔ رضویہ پولیس ملزم کو ستمبر میں دوبارہ عدالت پیش کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…