بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

سیاسی مخالفین کو ہسپتال میں زہریلے انجکشن لگاکرقتل کرنے اورخواتین ڈاکٹرز اور نرسوں سے جنسی زیادتی کا انکشاف

datetime 1  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)انسداد دہشت گردی کی عدالت نے رینجرز کے ہاتھوں تین ماہ قبل گرفتار ہونے والے عباسی شہید اسپتال کراچی کے ڈائریکٹر فنانس فرید الدین کو 14دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ملزم علاج یا ایمرجنسی میں آنے والے سیاسی مخالفین کو طبی سہولت فراہم کرنے کے بجائے زہریلے انجکشن لگوا کر قتل کرواتا تھا۔تفصیلات کے مطابق رینجرز نے تین ماہ قبل عباسی شہید اسپتال پر چھاپہ مار کر ڈائریکٹر فنانس فریدالدین کو حراست میں لیا تھا۔ فرید الدین کومنگل کے روز سخت سیکورٹی میں رینجرز نے انسداد دہشت گردی کورٹ میں پیش کیا اور 90 دن کی تحویل کی استدعا کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم سے بھتہ خوری، قتل اور دہشت گردوں کی مدد کرنے کی تحقیقات کرنی ہے۔ عدالت نے ملزم کو 90 دن کے لیے رینجرز کے حوالے کیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کی نشاندہی پر رضویہ تھانے کی حدود کھجی گراونڈ کے قبرستان سے بھاری تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا تھا جس کا مقدمہ رضویہ تھانے میں درج کر لیا گیا۔ 90 دن مکمل ہونے کے بعد عدالت نے ملزم کو ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔ رینجرزاور دیگر اداروں نے ملزم سے تفتیش کے بعد ایک ابتدائی تفتیشی رپورٹ بھی تیار کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے جعلی ڈگری کے ذریعے ملازمت حاصل کی ۔ رپورٹ کے مطابق ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ وہ علاج یا ایمرجنسی میں آنے والے سیاسی مخالفین کو طبی سہولت فراہم کرنے کے بجائے زہریلے انجکشن لگوا کر قتل کرواتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق فرید الدین خواتین ڈاکٹرز اور نرسوں کو بلیک میل اور حراساں کر کے زیادتی کا نشانہ بناتا تھا۔ جو خواتین ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف تعاون نہیں کرتیں ملزم انکی تنخواہیں روک کر انھیں بلیک میل کرتا تھا۔ رضویہ پولیس ملزم کو ستمبر میں دوبارہ عدالت پیش کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…