بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

الطاف حسین کے خلاف بڑا فیصلہ آہی گیا

datetime 31  اگست‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی تقاریر کی لائیو کوریج پر تاحکم ثانی پابندی عائد کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے الطاف حسین کی پاکستانی شہریت سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کر لی جبکہ اٹارنی جنرل ،ایڈووکیٹ جنرل اور پیمرا کے ذمہ دار افسر کو معاونت کے لئے طلب کر لیاگیا۔گزشتہ روز لاہو رہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس مظہر اقبال سدھو اور جسٹس ارم سجاد گل پر مشتمل فل بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔ درخواست گزار آفتاب ورک ایڈووکیٹ ، عبداللہ ملک اور مقصود اعوان کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ الطاف حسین سمیت ایم کیو ایم کے دیگر مرکزی رہنما میڈیا پر آ کر پاک فوج،رینجرز اور ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف مسلسل بیان بازی کر رہے ہیں، الطاف حسین نے 15مارچ ، 29اپریل اور 12جولائی کو اپنی تقاریر کے دوران ریاست اور فوج مخالف عناصر کی حمایت میں بیانات دیئے، آئین کے آرٹیکل پانچ کے تحت ہر شہری ملک سے وفاداری کا پابند ہے ، الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے رہنماﺅں کی بیان بازی ملکی سالمیت،وقار اور حب الوطنی کے تقاضوں اور آئین کے آرٹیکل 245,244,243 اور 63,62 کے خلاف ہے۔ درخوست گزاروں کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ الطاف حسین اور انکے ساتھیوں کی میڈیا پر تقریریں نشر ہونے سے بیرون ملک پاکستان کا امیج بری طرح متاثر ہو رہا ہے لہٰذا وفاقی حکومت کو الطاف حسین ،فاروق ستار،بابر غوری،وسیم اختر،ندیم نصرت،عتیق الرحمن،ارشاد ظفیر اور خالد مقبول صدیقی سمیت سنٹرل ایم کیو ایم آفس کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرنے کا حکم اور غداری کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے جبکہ پیمرا کو ایم کیو ایم کے رہنماﺅںکی تقاریر نشر نہ کرنے کاپابند بنایا جائے۔ انہوں نے مزید استدعا کی کہ ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی اور سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران کے خلاف آئین کے آرٹیکل 62,63 کے تحت کارروائی کرنے کا بھی حکم دیا جائے۔وکلا کے دلائل سننے کے بعدبنچ نے الطاف حسین کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کردی ۔فاضل عدالت نے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری، سیکرٹری داخلہ ،سیکرٹری کابینہ ڈویژن اور چیئرمین پیمرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سات ستمبر کو شق وار جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل ، ایڈووکیٹ جنرل اور پیمرا کے ذمہ دار افسر کو بھی آئندہ سماعت پر معاونت کے لئے طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…