جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

مشرف دور میں اسرائیل کو تسلیم کرنے پر کام مکمل ہوگیا تھا: خورشید قصوری

datetime 29  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(سپیشل رپورٹ)سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری کی تحریر کردہ کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مشرف دور میں اسرائیل کو تسلیم کرنے پر کام مکمل کر لیا گیا تھا اور اس سلسلے میں انکے اسرائیل کے نائب وزیر اعظم کے ساتھ استنبول میں مذاکرات بھی ہوئے تھے۔خورشید قصوری کی شائع ہونے والی کتاب کے مطابق پاکستان نے دوست ممالک کی سفارش پراسرائیل کو تسیلم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ انہوں نے کتاب میں لکھا کہ اسرائیل کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے ساتھ میرے پہلے مذاکرات 30 اگست 2005 کو استنبول میں ہوئے۔ اسرائیل کے نائب وزیر اعظم سلون شلمعون اور وزیر خارجہ سے ملاقات کا اہتمام ترکی نے کیا تھا۔اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مقصد امریکہ میں بھارتی لابی کا اثرو رسوخ کم کرنا تھا۔ پرویز مشرف، شوکت عزیز ڈی جی آئی ایس آئی اورجنرل اشفاق پرویز کیانی کوبھی اسرائیل سے رابطوں کا علم تھا،اسرائیل پاکستانی میزائل رینج سے ناخوش تھا۔ملاقات میں اسرائیلی وزیر خارجہ نے گلہ کیا کہ پاکستان کو فلسطین کی اتنی فکر کیوں ہے جتنی خود فلسطینیوں کو نہیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے اسرائیل سے رابطوں میں اتنی دیر کیوں کی۔اگر اسرائیل فلسطین کو تسلیم کر لیتا تو پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد نے اسرائیل اور فلسطین کا دورہ کرنا تھا جو نہیں ہو سکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…