بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

فائنل راﺅنڈ شروع ہونے والا ہے، ڈاکٹر طاہر القادری کا اعلان

datetime 28  اگست‬‮  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک)پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ ظالمانہ اور کرپٹ نظام کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا ،ہماری قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی، دھرنے کے اثرات ظاہر ہو کر رہیں گے ،فائنل راﺅنڈ شروع ہونے والا ہے،قومی خزانہ لوٹنے والی نام نہاد عوامی لیڈر شپ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گی ، ان کی لوٹ مار کی کمائی واپس قومی خزانے میں آئیگی، عوام دہشتگردی اور کرپشن نامنظور کا نعرہ لگاتے ہوئے لٹیروں اور اس لٹیرے نظام کے خلاف اکٹھے ہو جائیں ، آپریشن ضرب عضب کے بعد معاشی دہشتگردوں کو ختم کرنے کیلئے پوری ریاستی طاقت بروئے کار لائی جائے،کرپشن اور دہشتگردی کا چولی دامن کا ساتھ ہے، جنوری 2013 ءمیں غیر آئینی الیکشن کمیشن کے خلاف لانگ مارچ کیا تھا آج ساری جماعتیں اسی الیکشن کمیشن کے خلاف چیخ و پکار کررہی ہیں،جب تک قوم ظالموں کے خلاف اکٹھی ہو کر باہر نہیں نکلے گی ظلم ہوتا رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپین کے شہر بارسلونا میں عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن کے رہنماﺅں، کارکنان اور وہاں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے دہشتگردی کے خاتمہ اور فروغ امن نصاب مرتب کرنے پر بارسلونا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے ڈاکٹر طاہر القادری کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس نصاب کے ذریعے ملت اسلامیہ کی بے مثال خدمت کی گئی ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ کرپٹ نظام نے ناانصافی ،دہشتگردی اور لوٹ کھسوٹ کا سیاسی کلچر دیا، اداروں کی بجائے شخصیات مضبوط ہوئیں۔ پسندیدہ فیصلہ نہ دینے پر حکمرانوںکی طرف سے ٹربیونل کے جج کو دھمکایا گیا اس کی کردار کشی کی گئی، کیا اسے جمہوریت اور شرافت کی سیاست کہتے ہیں؟۔ اگر یہ حکمران ججز کو آنکھیں دکھا سکتے ہیں تو ان کے ماتحت پولیس افسران کی حیثیت اور اوقات کیا ہو سکتی ہے؟۔ اسی لیے ہم نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی تحقیقات کیلئے پنجاب پولیس کے افسران پر مشتمل جے آئی ٹی قبول نہیںکی۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر قائم ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے جج کو بھی پسند کی رپورٹ نہ دینے پر دھمکایا گیا اور اس کی کردار کشی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال گزر گیا سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہداءکو انصاف نہیں ملا۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ملکی ادارے ماڈل ٹاﺅن کے دہشتگردوں کو انصاف کے کٹہرے میں کب کھڑا کرینگے؟انہوں نے کہا کہ معاشی دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کی ابتداءہوتے ہی سازشیں شروع ہو گئیںاور ان سازشوں کا مرکز وزیراعظم ہاﺅس ہے ،وفاقی وزراءکے فوج مخالف بیانات اسی سلسلے کی کڑی تھے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے سامنے دئیے جانے والے دھرنے نے خوف کی فضا کو ختم کیا۔آج کسان، کلرک،نابینا افراد، یہاں تک کہ گوالے بھی اپنی بات سنانے کیلئے بے دھڑک اسمبلیوں کے سامنے دھرنے دیتے ہیں اور محلات میں رہنے والے حکمران مذاکرات پر مجبور ہو جاتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…