بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے مجرم کی سزامعطل

datetime 25  اگست‬‮  2015 |

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالت کی جانب سے سزائے موت پانے والے طالب علم کی سزا معطل کردی۔مالاکنڈ پبلک اسکول میں نویں جماعت کے طالب علم حیدر علی کو 2009 میں سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا تھا اور اس پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام تھاطالب علم کے والد ظاہر شاہ کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ حیدر کو 2009 میں 14 سال کی عمر میں گرفتار کیا گیا تھا . فوجی حکام کے مطالبے پر حیدر علی کو پیش کیا گیا۔درخواست کے مطابق حیدر علی کی گرفتاری کے 6 سال بعد معلوم ہوا کہ وہ لوئر دیر کی تیمرگرہ جیل میں قید ہے اور اسے فوجی عدالت کی جانب سے پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے لہذا اس فیصلے پر عملدرآمد کو فی الفور روکا جائے۔منگل کو جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس یونس تھیم پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے طالب علم کی سزائے موت پر عمل درآمد 8 ستمبر تک روکنے کا حکم جاری کردیابعد ازاں عدالت نے وفاق، سیکرٹری دفاع، جی او سی مالاکنڈ اور سیکریٹری داخلہ کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردیواضح رہے کہ اس سے قبل حیدر علی کے والد ظاہر شاہ نے رواں ماہ 8 اگست کو سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 184 تھری کے تحت ایک درخواست جمع کروائی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ حیدر علی کو ملنے والی سزا کا ریکارڈ فراہم کیا جائے تاکہ اس کے مطابق قانونی چارہ جوئی کی جاسکے۔تاہم سپریم کورٹ نے کیس کا ریکارڈ فراہم کرنے سے متعلق درخواست کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس حوالے سے ہائیکورٹ یا قانون کے تحت دستیاب کسی دوسرے مناسب فورم سے رابطہ نہیں کیا گیاسپریم کورٹ رجسٹرار کی جانب سے دیئے گئے حکم نامے میں کہا گیا کہ پٹیشنر براہ راست سپریم کورٹ سے رابطہ کرنے کا کوئی معقول جواز بھی پیش کرنے سے قاصر رہا ہے جبکہ اس حوالے سے ذیلی عدالتوں سے رجوع کیا جاسکتا تھا۔حکم نامے میں کہا گیا کہ پٹشنر کی جانب سے پیش کیا جانے والا سرٹیفکیٹ سپریم کورٹ کے رولز 1980ءکے حکم 25 کے رولز 6 پر پورا نہیں اترتا ہے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے فوجی عدالتوں کو برقرار رکھنے کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے ملزمان کو اپیل کا حق حاصل ہوگا۔فیصلے کے مطابق 21 ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں 11 ججوں نے فیصلہ دیا . 6 نے مخالفت کی، یوں اکثریت کی رائے پر فوجی عدالتوں کے حق میں فیصلہ سنایا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…