جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

اٹک حملے میں ملوث نیٹ ورک کے 2 اہم ارکان فیصل آباد سے گرفتار

datetime 19  اگست‬‮  2015 |

فیصل آباد/ اٹک(نیوزڈیسک) اٹک میں شجاع خانزادہ پر حملہ کیس میں ملوث نیٹ ورک کے دو مبینہ ملزمان کو فیصل آباد سے گرفتار کرکے تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حساس اداروں اور پولیس پر مشتمل خصوصی ٹیموں نے شہر کے مختلف مقامات پر ٹارگٹڈ کارروائیاں کیں اور مشکوک افراد کو حراست میں لیا۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ دو افراد جن کو سمن آباد اور جڑانوالہ روڈ کے قریب مکوآنہ کے ایک گائوں سے حراست میں لیا گیا کا تعلق اس نیٹ ورک سے ہے جو وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ پر خود کش حملے میں ملوث ہے۔ چھاپہ مار ٹیموں کی جانب سے ان دو افراد کی گرفتاری کو اہم کامیابی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ حراست میں لئے گئے دونوں افراد کو تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھے: عمرا ن خان اورریحام خان میں دوریاں ،دونوں الگ الگ کیوں رہ رہے ہیں ؟ ایک دلچسپ انکشاف

 

دوسری جانب آر پی او سرگودھا ذوالفقار حمید کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تفتیشی ٹیم آج شادی خان میں جائے حادثہ کا دورہ کرے گی۔ دورے سے قبل تفتیشی ٹیم کا اہم اجلاس اٹک ریسٹ ہاؤس میں ہوا جس میں خود کش دھماکے کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کمانڈنٹ سہالہ پولیس کالج سید محسن علی، ڈی سی او اٹک چودھری حبیب اللہ اور ڈی پی او اٹک ندیم حسین سمیت حساس اداروں اور سی ٹی ڈی کے افسران شریک ہوئے۔ اجلاس کے بعد ٹیم کے رکن ایف آئی اے کے ماہر برائے دھماکا خیز مواد اسسٹنٹ ڈائریکٹر شہزاد احمد نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور حملے میں استعمال ہونے والے دھماکا خیز مواد کی جانچ پڑتال کی۔ بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شہزاد احمد کا کہنا تھا کہ شواہد جمع کر لئے ہیں۔ جلد رپورٹ مرتب کر لی جائے گی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…