جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

سیلاب نے چترا ل کی دل لبھاتی واد یو ں کو کھنڈر بنادیا

datetime 29  جولائی  2015 |

چترال(نیوز ڈیسک)سیلاب نے خوبصورت وادیوں کی سرزمین چترال کو کھنڈرات میں بدل دیا ، پل ، سڑکوں اور سیکڑوں مکانوں کا نام و نشان مٹ گیا ، گاؤں موری بالا میں 10 گھر سیلابی ریلے میں بہہ گئے ، متاثرہ علاقوں میں غذائی قلت کا خدشہ منڈلانے لگا ، تعفن سے وبائی امراض بھی سراٹھانے لگے ہیں۔ تباہی کی داستان سناتی چترال کی یہ سرزمین بے رحم سیلاب سے پہلے جنت نظیر کہلاتی تھی لیکن اب یہاں رواں دواں زندگی کی بجائے ہر طرف بربادی ہی بربادی ہے۔ دل لبھاتی وادیاں کھنڈر بن چکیں ، سڑکیں پانی میں بہہ گئیں ، پل ٹوٹنے سے آبادیاں ایک دوسرے سے کٹ کر رہ گئیں۔ بچی کچھی زندگی بھی لینڈ سلائیڈنگ کے سبب محصور ہے۔ متاثرین بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں ، متاثرہ علاقوں میں غذائی قلت کا خدشہ بھی سر اٹھانے لگا ہے جبکہ ہزاروں جانوروں کی ہلاکت کے باعث اٹھنے والے تعفن سے وبائی امراض پھوٹنے کا بھی خطرہ بڑھ گیا ہے۔ بارشیں ہیں کہ سیلابی ریلوں کا زور کم ہونے نہیں دے رہیں ، موسلا دھار بارش سے سنگور گول اور مولن گول نالے میں طغیانی نے مکینوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ، علاقے میں مکئی کی فصل کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ مستوج کے علاقے برپ میں ندی نالوں نے بھی تباہی مچا رکھی ہے ، دو درجن سے زائد مکانات اور ایک سکول کا اب کوئی وجود نہیں ، گرم چشمہ سمیت اکثر علاقوں کا زمینی رابطہ بھی کٹا ہوا ہے۔ ادھر متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں ، ایف ڈبلیو او نے ریشن کا چترال شہر سے زمینی رابطہ بحال کر دیا ہے ،دوسری طرف ا?رمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز نے پانی میں پھنسے مزید تیس افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…