جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

عام معافی ،بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے دواہم کمانڈروں نے ہتھیار ڈال دیئے

datetime 23  جولائی  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کیلئے عام معافی کی پایسی کارگرثابت ہو نے لگی ، مکران میں بی ایل ایف کے اہم کمانڈروں الطاف بلیدی اور چنگیز بلیدی نے ہتھیار ڈال دیئے ۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے گڑھ مکران میں کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ کے نہایت خطرناک کمانڈروں الطاف بلیدی ولد چیئرمین امام بخش اور چنگیز بلیدی ولد بلوچ خان نے عام معافی کی پایسی کے تحت اپنے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال کر حکومت سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے جس سے بی ایل ایف کو شدید دھچکا لگا ہے کیونکہ یہ دونوں کمانڈر نہایت متحرک اور مکران و تربت میں دہشت کی علامت سمجھے جاتے تھے، ان کے ہتھیار پھینکنے کے بعد ا س علاقہ میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری کے ساتھ مزید مسلح علیحدگی پسندوں کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں ، ذرائع کے مطابق ان دونوں کمانڈروں کو ہتھیار پھینکنے کیلئے آمادہ کرنے کیلئے اْن کے قریبی عزیز سابق صوبائی وزیر ظہور احمد بلیدی نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبد المالک بلوچ مسند اقتدار پر بیٹھنے سے پہلے ہی اس عزم کا اظہار کر چکے تھے کہ وہ بلوچستان کا مسئلہ طاقت کی بجائے مذاکرات سے حل کرنے کی پایسی اختیار کرینگے جس پر وہ گزشتہ دو برسوں سے پوری شد ومد سے عمل پیرا ہیں اْنکی انہی کاوششوں کی بدولت 26جون کو اپیکس کمیٹی نے بھی بلوچستان میں مسلح علیحدگی پسندوں کیلئے عام معافی کا اعلان کیا جبکہ اْنکی مذاکرات کی پایسی اور کاوششوں کی وجہ سے بیرونی دنیا میں پناہ لینے والی علیحدگی پسندوں کی قیادت بھی حکومت سے مذاکرات کیلئے تیار ہوئی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…