پاکستان کے دشمنوں میں شدید اختلافات ,ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گئے

  منگل‬‮ 21 جولائی‬‮ 2015  |  15:23

اسلام آباد (نیوزڈیسک)پاکستان کے دشمنوں میں شدید اختلافات ,ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گئے. بلوچستان کے علیحدگی پسند گروپوں کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں‘ ان اختلافات نے آپس میں قتل و غارت کی شکل اختیار کر لی ہے اور ایک ہفتے میں دس افراد کو قتل کیا جاچکا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی سب سے بڑی و خطرناک کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ اور ان کے ساتھیوں کے درمیان اختیارات پر شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ بی ایل ایف


ایف کے پولیٹکل ونگ بی این ایم پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں اور اس کی تکمیل کیلئے وہ بی این ایم کے اہم عہدوں پر اپنے قریب ساتھیوں کو لانے کیلئے کوشاں ہیں جس پر ان کے کئی ساتھیوں نے بی ایل ایف کی قیادت سے اختلاف رائے کا اظہار کرتے ہوئے الگ گروپ بنا لئے ہیں۔ ان میں سے سب سے اہم گروپ بلوچ نیشنل لبریشن فرنٹ (بی این ایل ایف) ہے جسے ماسٹر ستار‘ سیلم اور جاگو وغیرہ چلا رہے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تین مختلف واقعات میں بی ایل ایف نے بی این ایل ایف کے 10افراد کو قتل کیا ہے۔ پہلے واقعہ میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ سے اختلاف کرنے والے بی ایل ایف کے دیرینہ ساتھی فضل حیدر کو ناصر آباد تربت میں ان کے گھر میں پانچ ساتھیوں سمیت قتل کیا گیا۔ اس واردات کے بعد فضل حیدر کی بیٹی نے اپنے عزیز و اقارب اور اہل علاقہ کو واضح الفاظ میں بتایا کہ ان کے والد فضل حیدر گھر پر تھے اور بی ایل ایف کے رکن ساچان جو کہ پہلے بھی کئی بار ان کے گھر آچکا تھا کا ٹیلی فون آیا اور اس نے فضل حیدر سے یہ کہا کہ ڈاکٹر اللہ نذر کا ضروری پیغام دینا ہے جو ٹیلی فون پر نہیں دیا جاسکتا‘ اس کیلئے ملنا ضروری ہے۔ جس پر فضل حیدر نے اسے گھر آنے کیلئے کہا‘ تھوڑی دیر بعد ساچان اپنے ساتھیوں سمیت ان کے گھر آیا پہلے آپس میں بات چیت شروع ہوئی اور تھوڑی دیر بعد ساچان وغیرہ نے فضل حیدر اور ان کے پانچ ساتھیوں کو قتل کر دیا۔ اس واقعہ سے پہلے بی ایل ایف کے ترجمان گہرام نے یہ بیان جاری کیا کہ فضل حیدر نے بی ایل ایف کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے اس لئے انہیں بی ایل ایف سے نکل دیا گیا ہے جس کے جواب میں فضل حیدر نے بیان جاری کیا تھا کہ انہیں کوئی نہیں نکل سکتا۔ جبکہ فضل حیدر کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل ایف کے ترجمان نے یہ بیان جاری کیا کہ فضل حیدر ہمارے دیرینہ ساتھی تھے مگر انہیں ڈسپلن کی خلاف ورزی پر مارا گیا ہے۔ اسی قسم کے دوسرے واقعہ میں بی ایل ایف کی قیادت سے اختلاف کرنے والے تین افراد جن میں نور جان لیلہ بھی شامل تھا کو ’کولواہ آواران‘ میں قتل کرنے کے بعد بی ایل ایف نے اپنے بیان میں انہیں غدار قراد دیتے ہوئے ذمہ داری قبول کی۔ اس طرح کا تیسرا واقعہ عید کے دوسرے روز رات ساڑھے سات بجے ’’کوشک بلیدہ‘‘ میں پیش آیا جس میں بی ایل ایف کی قیادت سے اختلاف کرکے ناراض گروپ بی این ایم شہید غلام محمد گروپ میں شمولیت اختیار کرنے والے رحمت اللہ شوہاز کو قتل کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق بی ایل ایف کی قیادت سے اختلاف کرنے والوں کی ان ہلاکتوں کے بعد ان کے ساتھیوں نے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کے درمیان آپس کے اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں اور اس آپس کی لڑائی میں بڑے پیمانے پر خون خرابہ ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے کیونکہ ان افراد کے قتل سے بی ایل ایف نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ جو بھی قیادت سے اختلاف رائے کرے گا وہ زندہ نہیں رہ سکے گا جبکہ اختلافی گروپس بی ایل ایف میں آمریت قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں