جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

15سال کے دوران پلی بارگین کرکے لوٹی رقوم واپس کرنیوالوں کے نام منظر عام پر آنے کا خدشہ،دوڑیں لگ گئیں

datetime 15  جولائی  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)15سال کے دوران پلی بارگین کرکے لوٹی رقوم واپس کرنیوالوں کے نام منظر عام پر آنے کا خدشہ،دوڑیں لگ گئیں،بڑے بڑے نام خود کو چھپانے کے لئے سرگرم ہوگئے،سپریم کورٹ نے نیب سے گزشتہ پندرہ سال کے دوران رضاکارانہ اور پلی بارگین سے سے ریکور ہونے والی رقم کی تفصیلات طلب کرلی ہیں جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کو ہی بتانا ہے کہ نیب کو کیسے چلایاجائے، تو پھر نیب کو بند ہی کردیں۔ بدھ کو یہاں جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے نیب میگا کرپشن سکینڈل کیس کی سماعت کی۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ نیب میں پندرہ سال سے کیسز زیر التوا ہیں۔ پندرہ سال سے جس شکایت پر کارروائی نہیں کی اس کا ذمہ دار کون ہے؟نیب کے وکیل اکبرتارڑ نے کہا کہ مختلف وجوہات سے کیسز زیر التواءرہے۔ نئے چیئرمین نیب دسمبر 2013 میں آئے ،مارچ 2014 میں ہم نے پرانے مقدمات کھولے ،2003 میں جو نیب افسران تھے ان میں سے بہت سے مر کھپ چکے ہیں۔مسلم کمرشل بینک کی نجکاری کا کیس کھولا ہے۔ بینک کے سربراہ میاں منشا کو بلایا جنہوں نے ریکارڈ دیکھنے کیلئے وقت مانگا ہے ،عدالت نے نیب کی ان چیمبر تفصیلات بتانے کی استدعا مسترد کردی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اگر ان چیمبر سماعت ہوئی تو چہ مگوئیاں ہوں گی۔جسٹس جواد ایس خواجہ استفسارکیا کہ بتائیں کرپشن کے خاتمے کیلئے پنجاب حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں،جس پرایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے اعتراف کیا کہ پنجاب سے کرپشن کا خاتمے نہیں کرسکے،جسٹس جواد نے کہا کہ چاروں صوبے کرپشن کے حوالے سے جامع رپورٹ جمع کرائیں،نیب حکام نے بتایا کہ چھ سوارب میں سے دوسوپینسٹھ ارب وصول کرلئے گئے ہیںجس پرجسٹس جواد ایس خواجہ نے وصولی کی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ بتایا جائے کن لوگوں نے رضاکارانہ طورپرپیسے جمع کرائے،اورکس کس سے بارگیننگ ہوئی،بتایاجائے محوخواب افسروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی،ذمہ داری ادارے کے سربراہ پرہوتی ہے،نائب قائد پرنہیں،اگرنیب کونہیں چلاسکتے تواس کی ذمہ داری بھی ہمیں دے دیںسماعت (آج) جمعرات تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…