جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

پولیس گردی بند کی جائے ورنہ فیصلے سڑکوں پر ہونگے‘ بارکونسلز

datetime 14  جولائی  2015 |

لاہور (نیوز ڈیسک) سانحہ ڈسکہ کے بعد باقاعدہ منصوبہ بندی سے پنجاب پولیس لڑائی جھگڑے کا ماحول پیدا کر رہی ہے،لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ۔آئی جی پنجاب اور پنجاب حکومت کو آخری بار خبردارکررہے ہیں کہ وکلاءکے خلاف پولیس گردی فوراً بند کی جائے ورنہ فیصلہ سڑکوں پر ہو گا، صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن پیر محمد مسعود چشتی کی زیر صدارت سانحہ ڈسکہ کے سلسلہ میں جنرل ہاو¿س کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اعظم نذیر تارڑ اور سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن بیرسٹر محمد احمد قیوم کے علاوہ وکلائ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اعظم نذیر تارڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈسکہ بار کے ساتھ مشاورت سے سانحہ ڈسکہ کے حوالہ سے جو لائحہ عمل مرتب کیا گیا تمام معاملات اس کے مطابق صحیح سمت میں چل رہے ہیں، ہم کسی صورت سانحہ ڈسکہ میں جاں بحق وکلائ کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ صدر ہائیکورٹ بار پیر مسعود چشتی نے ہاو¿ س کوبتایا کہ بار کا وفد 11جولائی کوڈسکہ میں بار کے ساتھیوں اور شہداءکے خاندان سے ملاقات کے لئے گیا تھا۔ ڈسکہ بار اورمتاثرہ خاندان کیس کی پیش رفت سے مطمئن ہیں۔ صدر ہائیکورٹ بار اور وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے سانحہ ڈسکہ کے بعد پنجاب پولیس کی طرف سے وکلاءکو زدو کوب اور زچ کرنے کی ایک منظم سازش کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ڈسکہ کے بعد وکلاء کے ساتھ پولیس گردی کے متعد دواقعات ہو چکے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔ سانحہ ڈسکہ کے بعد باقاعدہ منصوبہ بندی سے پنجاب پولیس لڑائی جھگڑے کا ماحول پیدا کر رہی ہے۔ ہماری امن و قانون پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ آئی جی پنجاب اور پنجاب حکومت کو آخری بار بتا رہے ہیں کہ وکلاءکے خلاف پولیس گردی فورا بند کی جائے ورنہ فیصلہ سڑکوں پر ہو گا۔ سیکرٹری ہائیکورٹ بار بیرسٹر محمد احمد قیوم نے کہا کہ بے شرمی، کی انتہاءہو گئی ہے کہ پولیس سانحہ ڈسکہ کے قاتل کو ہیرو بنا رکھا ہے۔جنرل ہاو¿س اجلاس نے وکلاءکی طرف سے وکلا ءپر سیلز ٹیکس عائد کئے جانے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کرنے کا اعلان بھی کیا۔صدر ہائیکورٹ بار نے جنرل ہاو¿س اجلاس کو بار کی لائبریری کے توسیعی کام کے لئے دئیے گئے ٹھیکہ کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ ٹھیکہ دار طے شدہ رقم سے زائد پیسے وصول کرنے کے باوجود کام ادھورا چھوڑ کر چلا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے ٹھیکہ دار کو کئی دفعہ بلایا لیکن وہ نہ آیا اور اس کا ٹھیکہ منسوخ کر کے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا رہی ہے۔ اخبار میں اشتہار دیکر نیا ٹھیکہ دیا جائے گا اور ہاو¿س سے اجازت لیکر کام شروع کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…