جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح پندرہ سو بارہ اشاریہ 5 فٹ ریکارڈ

datetime 12  جولائی  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہونے سے غوث آباد کے علاقے میں فصلوں کو نقصان پہنچا ہے، بالائی علاقوں سے بہہ کر آنیوالا ریلا داخل ہونے کے بعد گدو بیراج میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔فلڈ فورکاسٹنگ ڈویڑن کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح پندرہ سو بارہ اشاریہ 5 فٹ رکارڈ کی گئی، ڈیم میں پانی کی آمد3لاکھ12 ہزارکیوسک اور اخراج 2 لاکھ 73ہزار200 کیوسک ہورہا ہے۔ منگلاڈیم میں پانی کی سطح بارہ سو تیس اشارعیہ 8 فٹ رکارڈکی گئی۔ یہاں پانی کی آمد69ہزار774 جبکہ اخراج60 ہزارکیوسک رکارڈ کیا جارہا ہے۔ ڈائرکٹرجنرل پراونشل ڈزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی جواداکرم کی جانب سے جاری کردہ سیلابی صورتحال کے مطابق آج صبح دریائے سندھ میں تربیلا اور کالاباغ کے مقام پرنچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا۔ دریائے راوی میں جسڑ اور دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر بھی نچلے درجے کا سیلاب تھا۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب اوردیگردریا بشمول پہاڑی، سیلابی ندی نالےمعمول کیمطابق بہہ رہے ہیں،دریائےکابل میں نوشہرہ اور ورسک کےمقامات پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ پی ڈی ایم اےکے مطابق آج صبح دریائے کابل میں نوشہرہ کےمقام پر پانی کابہاو89 ہزار300 کیوسک جبکہ ورسک کے مقام سے اخراج49ہزار338کیوسک رکارڈ کیا گیا۔سکھربیراج کے کنٹرول روم انچارج عبدالعزیزسومروکے مطابق بالائی علاقوں سے بہہ کر آنیوالا سیلابی ریلا گدو بیراج میں داخل ہونے کے بعد اس وقت نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ آیندہ6روزتک پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہوگا،دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہونے سے غوث آباد کے علاقے میں فصلوں کو نقصان پہنچا ہے،فلڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق تونسہ کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد ایک لاکھ 96ہزار 85 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 78 ہزار ایک سو 80 کیوسک رکارڈ کیاگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…