جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ایک واقعہ جس کے بارے میں جان کر آپ کو جنرل راحیل شریف پر فخر ہوگا

datetime 7  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاک فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف کے بھائی میجر شبیرشریف وہ شہید ہیں جنہیں سویلین قبرستان میں سپرد خاک کیاگیا اور یہ شہید کے ایک دوست کی آخرت سنوارنے کیلئے وصیت تھی ، جنرل راحیل شریف کی فیملی پاکستان اور دوستوں پر مرمٹنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق جنرل راحیل کے بھائی میجرشبیر شریف کے بھائی کامزار میانی صاحب قبرستان میں ہے جہاں یوم شہادت پر آرمی چیف بھی سلامی دینے جاتے ہیں، دیگر نشان حیدرپانیوالے شہداءکے مزار فوجی قبرستانوں میں ہیں اور وہیں سلامی ہوتی ہے لیکن میجر شبیر شریف کی سویلین قبرستان میں تدفین کے پیچھے شہید کی اپنی وصیت ہے ، اطلاعات کے مطابق میجر شبیر شریف کے ایک دوست نے خودکشی کرلی تھی تو انہوں نے ایک عالم سے فتویٰ لیاکہ اس کی بخشش ہوسکتی ہے اور اگر ہاں تو کیسے ؟ تو انہوں نے کہاکہ اگر اس کیساتھ کوئی شہید دفن ہوجائے تو اس کی بخشش ہوجائے گی۔ اس کے بعد میجر شبیر شریف اپنی زندگی میں ہی والدہ کو ساتھ لے کر قبرستان گئے اور جگہ دکھائی کہ وہ شہید ہوکرآئیں تو انہیں اس جگہ پر دفن کیاجائے
مزیدپڑھیے :تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اہلیہ کے ہمراہ رواں سال فریضہ حج ادا کریں گے

تو ان کی والدہ نے کہا بیٹا ابھی تم جوان ہو اور ایسی باتیں کرنے کی آپ کو ضرورت نہیں ، میں بوڑھی ہوں ، تو ماں کے ساتھ ایسی باتیں نہیں کرتے تو انہوں نے کہا نہیں ،امی آپ نے مجھے یہاں لاکر دفن کرنا ہے اورموجودہ مزار کی جگہ پر ایک پتھر پھینکتے ہوئے والدہ کو اشارہ کیاتھایعنی اپنی جگہ کا خود ہی انتخاب کرلیاتھا اور اس جگہ کا انتخاب اپنے دوست کی بخشش کے لےے کیاتھا۔مختصراً یہ کہ راحیل شریف کی فیملی و ہ فیملی ہے جو ہے دوستوں کے دوست ہیں، راحیل شریف کی والدہ کے جملے بھی بڑے جذباتی ہیں ، اس خاندان نے اپنے جوان ملک کی حفاظت کیلئے قربان کیے ہیں اور یہ حب الوطنی اور ملک کے دفاع میں کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…