جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

کرپٹ مافیاسپریم کورٹ کے معزز ججوں کے ساتھ بھی ہاتھ کرگیا

datetime 3  جولائی  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)کرپٹ مافیاسپریم کورٹ کے معززججوں کے ساتھ بھی ہاتھ کرگیا،سپریم کورٹ کے ججون کے لئے خریدے گئے جنریٹرز میں گھپلے کا انکشاف ہواہے۔چیف سیکرٹری سندھ نے نوٹس لے کرمحکمہ اینٹی کرپشن کو انکوائری کا حکم دے دیاہے۔جسٹس امیرہانی مسلم کی رہائش گاہ پر جنریٹر نصب کئے بغیر ٹھیکیدار سرکاری خزانے سے رقم لے اڑا حکو مت سندھ ایک سال تک سوتی رہی اس بات کا انکشاف چیف سیکرٹری سندھ صدیق میمن کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا ہے۔ اجلاس میںسیکرٹری آئی اینڈ سی طارق جعفری ، سیکرٹری جنرل ایڈمنسٹریشن، اور سپریم کورٹ کے نمائندے نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری سندھ صدیق میمن نے جنریٹر کی برآمدگی کا حکم دے دیااور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن غلام حسین میمن کو انکوائری کرکے اس کے ذمہ داروں کا تعین کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں جنریٹر کی فراہمی کی ذمہ دار سپلائرز کمپنی میسرز رومی انٹر پرائزز کے نمائندے آصف بھٹو کو بھی اینٹی کرپشن میں انکوائری آفیسر کے روبرو پیش ہونے کا بھی حکم دیتے ہوئے طلب کرلیا ہے جبکہ سیکرٹری جنرل ایڈمنسٹریشن سے سپریم کورٹ کے ججوں کے لئے خریدے جانے والے جنریٹرز کی خریداری کے حوالے سے لکھی جانے والی دستاویزات و تفصیلات طلب کرلی ہے ۔ذرائع کے مطابق سال 2009میں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری بلڈنگ میں منعقدہ اجلاس میں سابق چیف سیکرٹری سندھ فضل الرحمان نے پانچ ججوں کی رہائش گاہوں پر جنریٹر لگانے کی یقین دھانی کرائی تھی جس پر چار ججون کی رہائش گاہ پر جنریٹر نصب کردیئے گئے تھے جبکہ جسٹس امیر ہانی مسلم کی رہائش گاہ پر جنریٹر لگانے کے لئے 2013میں میسرز رومی انٹر پرائززکو ادائیگی بھی کردی گئی تھی جبکہ جنریٹر5 مارچ 2014 تک لگانے کے لئے سپلائر میسرز رومی انٹر پرائزز کو رجسٹرار سپریم کورٹ سے رابطہ کرکے لگانا تھا تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود یہ جنریٹر نہیں لگایاجاسکاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…