منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عشرت العباد ایکشن میں،اعلیٰ حکام گورنر ہاوس طلب

datetime 16  مئی‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کراچی میں پانی کے بحران کا نوٹس لیتے ہوئے ہفتے کو واٹر بورڈ کے اعلیٰ حکام کو گورنر ہاو¿س طلب کیا۔ گورنر ہاو¿س میں واٹر بورڈ کے ایم ڈی ہاشم رضا زیدی نے پانی بحران پر گورنر سندھ کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حب ڈیم خشک ہوجانے کے باعث سسٹم میں 100 ایم جی ڈی پانی کی کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ علاقے متاثر ہورہے ہیں جہاں حب ڈیم سے پانی کی ترسیل کی جاتی ہے۔ انہوںنے بتایا کہ پمپس کی کارکردگی میں فرق پڑا ہے جس سے مقررہ مقدار میں پانی پمپ نہیں ہورہا ہے۔ اس ضمن میں حکومت سندھ نے فنڈز مہیا کردیے ہیں جس سے ان پمپس کی کارکردگی کو بہتر بنایا جارہا ہے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر متاثرہ علاقوں میں ٹینکرز کے ذریعے پانی کی مفت سپلائی جاری ہے۔ گورنر سندھ نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ پانی بحران میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرکے پانی کی تسلسل سے فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اس ضمن میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جاسکتی ہے۔ انہوںنے ہدایت کی کہ واٹر ٹینکر کے ذریعے پانی کے مفت سپلائی کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے اور پانی کے تقسیم کے نظام میں بہتری لائی جائے تاکہ وہ علاقے جہاں پانی کی کمی ہے وہاں بھی تسلسل سے فراہمی ممکن ہوسکے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ ماضی میں بھی حب ڈیم خشک ہوجانے کے باعث شہر کے بعض علاقوں میں پانی کا بحران پیدا ہوا تھا اس وقت والز نصب کرکے پانی کی تقسیم کے نظام کو بہتر بناکر بحران پر قابو پالیا گیا تھا۔ موجودہ صورت حال میں بھی ماضی کی طرح مختلف علاقوں میں پانی کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے والز نظام کو کارآمد بنایا جائے۔ انہوںنے کہا کہ آئندہ چند روز میں گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ پانی کی طلب میں بھی اضافہ ہوگا جس کے لیے ضروری ہے کہ پیشی اقدامات کو یقینی بنانے کے ساتھ ان علاقوں میں جہاں پانی تقسیم نظام کے تحت پہنچ نہیں رہا ہے وہاں ٹینکرز کے ذریعے تسلسل سے پانی فراہم کیا جائے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ رمضان المبارک سے قبل کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہوگا تاکہ رمضان المبارک میں پانی کا مسئلہ پیدا نہ ہوسکے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ جس طرح کراچی کی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے اس کے لیے روزانہ کی بنیاد پر حکمت عملی ترتیب دینے کے ساتھ ساتھ طویل المدتی پلان بھی وضع کرنا ہوگا۔ آبادی کے دباو¿ کے باعث کے فور منصوبہ شہر کی لائف لائن بن چکا ہے۔ وفاقی حکومت میں اس منصوبے کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی منظوری دے دی ہے تاکہ جنگی بنیادوں پر حکمت عملی ترتیب دی جائے تاکہ کم سے کم وقت میں یہ عظیم منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…