اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

’پاکستانی طالبان کا اہم کمانڈر افغانستان میں ہلاک‘

datetime 13  مارچ‬‮  2015 |

کابل (نیوز ڈیسک)کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے دھڑے جماعت الاحرار نے اپنی عسکری اور سیاسی شوری کے اہم رکن کمانڈر قاری شکیل کی افغانستان میں ایک کارروائی کے دوران ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔جماعت الحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران تصدیق کی کہ قاری شکیل اور ان کے ایک ساتھی ڈاکٹر طارق علی جمعرات کو افغانستان کے صوبے ننگرہار میں ایک کارروائی کے دوران مارے گئے ہیں۔انہوں نے دونوں کمانڈروں کی ہلاکت کا الزام پاکستان کے خفیہ اداروں پر لگایا۔ تاہم ابھی تک سرکاری طورپر اس حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا ہے اور نہ سرکاری ذرائع سے اس الزام کی تصدیق کی جا سکی ہے۔کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے بھی جمعرات کو ایک بیان میں کمانڈر قاری شکیل، ڈاکٹر طارق علی کے علاوہ ان کے دو دیگر ساتھیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ افراد کہاں اور کیسے مارے گئے ہیں۔تحریک طالبان پاکستان ، جماعت الاحرار اور خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کی تنظیم لشکر اسلام نے انضمام کا فیصلہ کیا ہے
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ سے تعلق رکھنے والے شکیل احمد حقانی عرف قاری شکیل کا شمار تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے اہم کمانڈروں میں ہوتا تھا۔ان پر مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے بڑے حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا جاتا رہا تھا۔گزشتہ سال فروری میں جب حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا تو قاری شکیل طالبان کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کے رکن تھے۔ وہ کمانڈر عمر خالد کے نائب بھی رہ چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…