اسلام آباد (نیوز ڈیسک) انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ سے بیرونِ ملک تعلیم کے نام پر مبینہ دھوکا دہی کے کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر شہزاد بخاری کے مطابق واقعے میں مبینہ طور پر ملوث ملزم نعمان کی ابتدائی شناخت کرلی گئی ہے، جبکہ ایک خاتون کے کردار کا بھی پتا چلا ہے۔
اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شہزاد بخاری نے بتایا کہ ملزم نعمان نے خود کو سپریم کورٹ کا اکاؤنٹنٹ ظاہر کیا تھا، تاہم ابتدائی معلومات کے مطابق وہ نہ تو باقاعدہ ایجنٹ تھا اور نہ ہی اسٹڈی کنسلٹنٹ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کر دیے گئے ہیں، نعمان کا ڈیٹا بھی حاصل کرلیا گیا ہے اور گرفتاری کے لیے ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔
طالبہ کی موت کی تحقیقات جاری
یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں تھانہ رمنا کی حدود سے لائبہ نامی نوجوان طالبہ کی لاش ایک درخت سے لٹکی ہوئی ملی تھی۔ لائبہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ تھیں اور امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھتی تھیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق طالبہ نے بیرونِ ملک تعلیم کے انتظامات کے لیے ایک شخص کو لاکھوں روپے ادا کیے تھے، تاہم مبینہ طور پر ان کے ساتھ دھوکا دہی کی گئی۔ اس واقعے کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ اور صدمے کا شکار تھیں۔ پولیس اور متعلقہ ادارے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
والد کو بھیجے گئے آخری پیغام کی تفصیلات
رپورٹس کے مطابق لائبہ نے اپنی موت سے قبل اپنے والد کے لیے ماموں کے موبائل فون پر ایک پیغام بھیجا تھا۔ اس پیغام میں انہوں نے مبینہ فراڈ کے بارے میں والد کو نہ بتانے کی درخواست کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ خبر ان کے والد کے لیے ناقابلِ برداشت صدمہ ثابت ہوسکتی ہے۔
بیٹی کی تعلیم کے لیے والد نے پلاٹ فروخت کردیا تھا
لائبہ کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے والد موٹر سائیکل پر دودھ فروخت کرکے گھر کے اخراجات اور بچوں کی تعلیم کا انتظام کرتے تھے۔ بیٹی کو اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا بھیجنے کی خاطر انہوں نے اپنا پلاٹ فروخت کیا اور مبینہ طور پر 21 لاکھ روپے نقد ادا کیے تھے۔
خاندان کے مطابق لائبہ کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ان کی والدہ کے زیورات بھی بینک میں گروی رکھوائے گئے تھے۔ اس واقعے نے اہلِ خانہ کو شدید صدمے سے دوچار کردیا ہے۔
حکام کے مطابق مبینہ فراڈ میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔ واقعے کی مکمل وجوہات اور ذمہ داران کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔



















































