جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

مستونگ ،نامعلوم مسلح افراد کا وزیرداخلہ بلوچستان کے قافلے پر حملہ

datetime 14  اگست‬‮  2026 |

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کا وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو کے قافلے پر حملہ،

7اہلکاروں سمیت 9افراد زخمی ، وزیر داخلہ حملے میں محفوظ رہے ، کوئٹہ پہنچا دیا گیا ۔ سیکورٹی فورسز ذرائع کے مطابق جمعہ کی صبح وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو اپنے حلقے قلات میں یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد کوئٹہ واپس آرہے تھے کہ مستونگ کے علاقے کنڈ عمرانی کے قریب ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں وزیر داخلہ کے قافلے میں موجود 7اہلکار سمیع اللہ، ذکریا، نصر اللہ، عبدالرازق(ڈرائیور) ، محمد کاشف، سیف اللہ اور قریبی باغ میں کام کرنے والے دو افراد امیر محمد اور گہور خان زخمی ہوگئے ۔واقعہ کے بعد میر ضیاء اللہ لانگو کو سخت سیکورٹی میں کوئٹہ جبکہ زخمی ہونے والے افراد کو شہید غوث بخش رئیسانی ہسپتال مستونگ منتقل کردیا گیا جہاں دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے جنہیں بعدازاں کوئٹہ منتقل کردیا گیا ۔ حملے کے بعد میر ضیاء اللہ لانگو نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ‘حملہ آور باغوں کے اندر موجود تھے اور دونوں جانب سے ہماری گاڑیوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔وزیر داخلہ کے مطابق ان کے سکواڈ نے فوری جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں تقریباً 20 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

انھوں نے بتایا کہ وہ اپنی گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے اور حملے کے دوران ان کی بلٹ پروف گاڑی کے ڈرائیور سائیڈ کے شیشے پر پانچ گولیاں لگیں۔میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ اللہ کے فضل سے وہ محفوظ رہے، تاہم سکواڈ کے اہلکاروں کے زخمی ہونے پر افسوس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے ان پٹاخوں سے نہیں ڈرایا جاسکتا،پاکستان زندہ باد تھا ، زندہ باد ہے ، زندہ باد رہے گاحکومت، پولیس اور سکیورٹی ادارے امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ ریاست مخالف عناصر اور ان کے مبینہ بیرونی سرپرست اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔اس طرح کے حملوں سے ہمارے عزم اور پاکستان سے محبت کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔دریں اثناء وزیرداخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے اپنے ایک بیا ن میں کہا کہ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو کے قافلے پر مستونگ کے علاقے فتنہ الہندوستان نے بزدلانہ حملہ کیا،پولیس کے بہادر جوانوں نے دہشتگردوں کے حملے کو بہادری سے پسپا کیابیس منٹ تک فتنہ الہندوستان کے حملے کا بھرپور جواب دیا گیا اوربزدل دشمن دم دما کر بھاگ گیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…