اسلام آباد(این این آئی) ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دورہ پاکستان کے موقع پر ریڈ زون میں سکیورٹی ہائی الرٹ رہی ،
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی اقدامات بھی مزید سخت کئے گئے۔حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ریڈ زون میں واقع متعدد وزارتوں اور اداروں کے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی تاہم کابینہ ڈویژن، ایف بی آر، وزارتِ خزانہ، وزارتِ تجارت اور وزارتِ خارجہ کے دفاتر معمول کے مطابق کھلے رہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق وزارتِ داخلہ، انسدادِ منشیات، قانون و انصاف، وزارتِ پارلیمانی امور، وزارتِ صنعت و پیداوار اور وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے دفاتر میںبھی معمول کے مطابق کام جاری رہااس کے علاوہ قومی اسمبلی، سینیٹ، وزیراعظم سیکرٹریٹ اور ریونیو ڈویژن کے دفاتر بھی حسبِ معمول کھلے رہے ۔حکومتی نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ریڈ زون میں واقع خودمختار اداروں اور منسلک محکموں میں تعطیل رہی جبکہ گھر سے کام کرنے والے اداروں کے افسران اور سیکرٹریز کا عملہ اپنے سٹیشنز پر موجود رہا، تمام ملازمین کو مختصر اطلاع پر دفتر پہنچنے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔دوسری جانب ریڈ زون میں راستوں کی بندش کے باعث وفاقی آئینی عدالت کی کاز لسٹ منسوخ کر دی گئی ہے،
رجسٹرار آفس نے کاز لسٹ کی منسوخی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔اسلام آبادہائیکورٹ بھی بند رہی۔نوٹیفکیشن کے مطابق سکیورٹی صورت حال کے باعث عدالتی کارروائی متاثر ہونے کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا، سائلین اور وکلا کو درپیش مشکلات اور ریڈ زون میں ٹریفک بندش کے باعث عدالت تک رسائی مشکل ہونے کے سبب کاز لسٹ منسوخ کی گئی ہے۔رجسٹرار آفس کے مطابق انتظامی وجوہ کی بنیاد پر آئندہ تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔سڑکوں کی بندش کے باعث الیکش کمیشن نے ہونے والی سماعتیں ملتوی کر دی گئیں جبکہ متعدد کیسز کو ڈی لسٹ کر دیا گیا ہے، الیکشن کمیشن کے مطابق خیبر پختونخوا سینیٹ کے ضمنی انتخابات کی معطلی سے متعلق درخواست پر بھی سماعت نہ ہوسکی۔



















































