اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے موبائل فون کی فرانزک رپورٹ سامنے آنے کے بعد اہم انکشافات ہوئے ہیں،
جن سے اس کے مبینہ نیٹ ورک کے وسیع ہونے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔اے آر وائی نیوز کے مطابق آزاد خان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پنکی کے موبائل فون سے مجموعی طور پر 869 رابطہ نمبرز حاصل کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نیٹ ورک صرف کراچی تک محدود نہیں بلکہ اس کے روابط افریقی ممالک تک بھی پھیلے ہوئے ہیں۔ایڈیشنل آئی جی کراچی کے مطابق اس مبینہ نیٹ ورک میں تقریباً 300 افراد مختلف منشیات سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ حاصل ہونے والے نمبرز میں سے 132 کا تعلق کراچی سے ہے جبکہ دیگر نمبرز مختلف شہروں اور بیرونِ ملک سے منسلک پائے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض افریقی باشندے بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں جو لاہور میں مقیم ہیں۔پولیس حکام کے مطابق اب تک 240 نمبرز کی لوکیشن ٹریس کی جا چکی ہے، جبکہ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نیٹ ورک میں 20 خواتین بھی شامل ہیں۔ آزاد خان کا کہنا تھا کہ ملزمہ بعض افراد کے نام ظاہر کر رہی ہے جبکہ کچھ معلومات ابھی چھپائی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام شواہد کی مکمل تصدیق کے بعد ملوث افراد کے نام سامنے لائے جائیں گے۔ ان کے مطابق اگر کسی سرکاری افسر یا بااثر شخصیت کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ حکام نے مزید بتایا کہ نیٹ ورک سے وابستہ 4 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پنکی نے منشیات کی ترسیل کے لیے 9 رائیڈرز رکھے ہوئے تھے، جن میں سے 8 کا تعلق پنجاب سے تھا۔ اس سلسلے میں پنجاب پولیس سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ مزید تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔حکام کے مطابق ملزمہ کی مالی سرگرمیوں کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔ ایک بینک اکاؤنٹ میں 500 صفحات پر مشتمل ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں، جن میں سب سے زیادہ لین دین ایک شخص ’’لاہور اینہ‘‘ کے نام سے منسلک پایا گیا۔



















































