تہران /واشنگٹن /اسلام آباد(این این آئی)ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا جس کے بعد تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال کردی گئی جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے ہرمز کھولنے کے اعلان پر ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاہے کہ لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی۔
جمعہ کو اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے تمام تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو جنگ بندی کی باقی مدت کیلئے مکمل طور پر کھلا قرار دیا گیا ہے۔عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کمرشل شپنگ کے لیے مکمل طور پر کھول دی گئی، جنگ بندی کے دوران جہازوں کی آمد و رفت جاری رہے گی،ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایرانی وزیر خارجہ کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایران کا شکریہ ادا کیا۔سوشل میڈیا پر انھوں نے لکھا کہ ایران نے ابھی اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہے اور مکمل آمدورفت کیلئے تیار ہے۔ شکریہ!ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹروتھ سوشل پر ایک اور فالو اپ پوسٹ سامنے آئی جس میں انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہے اور کاروبار کیلئے تیار ہے لیکن ایران کے حوالے سے بحری ناکہ بندی پوری طاقت اور موثر انداز میں برقرار رہے گی اور یہ اسی وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے ساتھ ہمارا لین دین 100فیصد مکمل نہیں ہو جاتا۔امریکی صدر نے کہا کہ یہ عمل بہت تیزی سے مکمل ہونا چاہیے کیونکہ زیادہ تر نکات پہلے ہی طے پا چکے ہیں،اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ!۔ایک اور ٹروتھ سوشل کی پوسٹ میں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا ہمارے عظیم B-2بمبار طیاروں کے ذریعے پیدا ہونے والی تمام (نیوکلئیر ڈسٹ)حاصل کریگا اس معاہدے میں کسی بھی صورت، شکل یا طریقے سے کوئی رقم کا لین دین نہیں ہوگا۔ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاہدہ کسی بھی طور پر لبنان سے مشروط نہیں ہے تاہم امریکا علیحدہ طور پر لبنان کے ساتھ کام کریگا اور حزب اللہ کے معاملے کو مناسب انداز میں نمٹائے گا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اب لبنان پر مزید بمباری نہیں کریگا۔
امریکا نے اسے ایسا کرنے سے سختی سے روک دیا ہے،اب بہت ہو چکا!۔اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنگ بندی کے حصول میں کردار ادا کرنے پر پاکستان کا ایک مرتبہ پھر شکریہ ادا کیا۔ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے جنگ بندی کے حصول میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے ثالثی کے عمل میں موثر کردار ادا کیا۔دریں اثناء امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں اتوار کو ہونے کا امکان ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے 3 صفحات پر مشتمل ایک منصوبے پر مذاکرات جاری ہیں۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا کہ منصوبے میں ایک اہم تجویز یہ ہے کہ امریکا ایران کے منجمد 20 ارب ڈالر جاری کرے گا جس کے بدلے ایران اپنا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ترک کردے گا۔ویب سائٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کی ایک بڑی ترجیح یہ ہے کہ ایران اپنی زیرِ زمین جوہری تنصیبات میں موجود تقریباً 2ہزار کلوگرام افزودہ یورینیم تک رسائی حاصل نہ کر سکے، خصوصا وہ 450 کلوگرام یورینیم جو 60 فیصد تک افزودہ ہے۔ذرائع کے مطابق مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں امریکا ایران کو 6 ارب ڈالر جاری کرنے پر تیار تھا تاکہ ایران خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا خرید سکے تاہم ایران نے 27ارب ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق تازہ ترین بات چیت میں 20 ارب ڈالر کی رقم زیر غور ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ یہ امریکی تجویز ہے جبکہ دوسرے امریکی عہدیدار نے رقم کے بدلے یورینیم کی تجویز کو کئی زیر بحث نکات میں سے ایک قرار دیا۔ویب سائٹ کے مطابق اسی دوران امریکا نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا تمام جوہری مواد امریکا منتقل کرے جبکہ ایران نے صرف اسے اپنے ملک میں ہی ڈان بلینڈ (کم افزودہ)کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ایگزیوس کے مطابق ایک زیر غور تجویز ہے کہ زیادہ افزودہ یورینیم کسی تیسرے ملک منتقل کیا جائے جبکہ باقی یورینیم کو ایران میں بین الاقوامی نگرانی کے تحت کم افزودہ کیا جائے۔ویب سائٹ کے مطابق اس وقت زیرِ غور 3 صفحات پر مشتمل مفاہمتی یادداشت میں ایران کی جانب سے جوہری افزودگی پر رضاکارانہ پابندی بھی شامل ہے۔ویب سائٹ کے مطابق امریکا نے مذاکرات کے آخری دور میں ایران سے جوہری افزودگی پر 20 سالہ پابندی کا مطالبہ کیا تھا جبکہ ایران نے 5 سال کی مدت تجویز کی اور ثالث اب بھی اس حوالے سے اختلاف کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو طبی مقاصد کے لیے نیوکلیئر ریسرچ ری ایکٹرز رکھنے کی اجازت ہوگی تاہم وہ اس بات کی یقین دہانی کرائے گا کہ اس کی تمام جوہری تنصیبات زمین کے اوپر ہوں گی جبکہ موجودہ زیرِ زمین تنصیبات غیر فعال رہیں گی۔
اس معاہدے میں آبنائے ہرمز سے متعلق امور بھی شامل ہیں تاہم ذرائع کے مطابق اس حوالے سے اب بھی اہم اختلافات موجود ہیں،یہ واضح نہیں کہ اس مفاہمتی یادداشت میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں کی حمایت کا ذکر شامل ہے یا نہیں۔ دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ کی جانب سے آبنائے ہرمز جنگ بندی کی باقی مدت کے دوران تجارتی جہازرانی کے لیے مکمل طور پر کھولے جانے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔اس اعلان کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 90 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی، جبکہ دن کے اوائل میں یہ 98 ڈالر سے زائد تھی۔این وائی میکس لائٹ سویٹ کروڈ، جو امریکہ کا معیاری خام تیل ہے، اس کی قیمت میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔تنازعے سے قبل برینٹ خام تیل تقریبا 70 ڈالر فی بیرل سے کچھ کم پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔مارچ کے اوائل میں یہ 100 ڈالر سے تجاوز کر گیا اور اسی مہینے کے آخر میں 119 ڈالر سے بھی اوپر چلا گیا۔تازہ ترین رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 11.17 فیصد کی کمی کے بعد 83.52 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔دوسری جانب برینٹ خام تیل کی قیمت 11.32 فیصد کی کمی کے بعد 88.07 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔خیال رہے کہ گزشتہ روز لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا تھا، جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک 10 روزہ سیزفائر پر متفق ہوگئے ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق ان کی لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے مثبت گفتگو ہوئی جس کے بعد دونوں رہنماں نے امن کے لیے باضابطہ طور پر امریکی وقت کے مطابق شام 5 بجے 10 روزہ جنگ بندی شروع کرنے پر اتفاق کیا۔واضح رہے کہ یہ ایک نہایت اہم بحری راستہ ہے جس کے ذریعے دنیا کے تقریباً 20فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی ترسیل ہوتی ہے۔اس آبنائے کی جغرافیائی حیثیت نے اس جنگ کے دوران ایران کو اسے دبا کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کا موقع دیاجہاں اس نے تنگ آبی راستے سے بعض جہازوں کو گزرنے سے روکا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔یہ آبنائے شمال میں ایران اور جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای)کے درمیان واقع ہے۔ اس کی چوڑائی داخلی اور خارجی مقامات پر تقریباً 50کلومیٹر (31میل)ہے جبکہ سب سے تنگ مقام پر یہ تقریبا 33 کلومیٹر چوڑی ہے۔ یہ خلیج کو بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے۔یہ آبنائے اتنی گہری ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے ٹینکر اس سے گزر سکتے ہیں اور اسے مشرقِ وسطی کے بڑے تیل اور ایل این جی پیدا کرنے والے ممالک اور ان کے خریدار استعمال کرتے ہیں۔امریکی توانائی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے اندازوں کے مطابق2025 میں روزانہ تقریباً 2کروڑ بیرل تیل اور تیل سے بنی مصنوعات آبنائے ہرمز سے گزریں، جو سالانہ تقریبا 600 ارب ڈالر (447 ارب پائونڈ)کی توانائی تجارت کے برابر ہے۔یہ تیل صرف ایران سے نہیں بلکہ دیگر خلیجی ممالک جیسے عراق، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بھی آتا ہے۔



















































