پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کو پمز ہسپتال لایا گیا، حکومت کی تصدیق،عمران خان کو آنکھوں کی کونسی بیماری ہو گئی ہے؟حیران کن انکشاف

datetime 29  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے تصدیق کی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو مختصر وقت کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ماہر چشم ڈاکٹروں نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا معائنہ کیا، جس کے بعد یہ رائے دی گئی کہ ایک معمولی طبی عمل کے لیے انہیں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جانا ضروری ہے۔وزیر اطلاعات کے مطابق ڈاکٹروں کی سفارش پر گزشتہ ہفتے رات کے وقت عمران خان کو پمز منتقل کیا گیا، جہاں ان کا مکمل طبی جائزہ لیا گیا۔ ان کی تحریری رضامندی سے تقریباً 20 منٹ پر مشتمل ایک طبی عمل انجام دیا گیا، جس کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل واپس پہنچا دیا گیا۔اس سے قبل بھی سابق وزیراعظم کو ہسپتال لائے جانے کی تصدیق سامنے آئی تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پمز کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ عمران خان کو ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب سخت سکیورٹی حصار میں ہسپتال لایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس دوران سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے اور آپریشن تھیٹرز کے اطراف بھی کڑی نگرانی رکھی گئی، جبکہ طبی عمل میں کچھ وقت لگا۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عمران خان کی آنکھ کی ایک وین میں خطرناک بلاکیج پیدا ہو چکی ہے، جس کے باعث ان کی بینائی کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ پارٹی کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ میں سی آر وی او (CRVO) کی تشخیص ہوئی ہے، جسے ڈاکٹروں نے ایک سنگین طبی مسئلہ قرار دیا ہے۔پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ جیل انتظامیہ علاج جیل کے اندر ہی کرانے پر زور دے رہی ہے، حالانکہ ماہرین کے مطابق اس بیماری کے علاج کے لیے جدید آپریشن تھیٹر اور خصوصی سہولیات درکار ہیں، جو جیل میں ممکن نہیں۔

پارٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود عمران خان کے ذاتی معالج کو معائنہ کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ ان کے طبی معائنے کی درخواست اگست 2025 سے زیر التوا ہے۔تحریک انصاف نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو فوری اور مناسب طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور ان کی فیملی اور قریبی رفقا سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…