کراچی(این این آئی)ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازا شاپنگ مال میں رات گئے لگنے والی آگ پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا،آتشزدگی کے باعث عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوگئے جب کہ 56 افراد تاحال لاپتا ہیں۔تفصیلات کے مطابق کراچی ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازا میں رات سوا دس بجے آگ بھڑک اٹھی جو بڑھتی ہی چلی گئی، فائربریگیڈ کی گاڑیاں بڑی تعداد میں پہنچیں مگر آگ بڑھتی ہی رہی، آتشزدگی سے عمارت کے دو حصے گرگئے جس میں 6 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔
اسپتالوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دھوئیں سے حالت غیر ہونے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا، دو فائر فائٹرز ارشاد اور بلال زخمی ہوئے جو پی این ایس شفا میں زیر علاج ہیں، مجوعی طور پر تیس افراد زخمی ہوئے جن میں سے 13 برنس سیںٹر، پندرہ اس کے ٹراما سینٹر میں اور دو جناح اسپتال لائے گئے۔چھیپا ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد میں کاشف ولد یونس عمر 40 سال، فراز ولد ابرار عمر 55 سال، محمد عامر ولد نامعلوم عمر 30 سال، فرقان ولد شوکت علی عمر 25 سال اور دیگر شامل ہیں۔اسی طرح زخمیوں میں حسیب ولد وسیم عمر 25 سال، وسیم ولد سلیم عمر 20 سال، دانیال ولد سراج عمر 20 سال، صادق ولد نامعلوم عمر 35 سال، حمزہ ولد محمد علی عمر 22 سال، رحیم ولد گل محمد عمر 25 سال، فہد ولد محمد ایوب عمر 20 سال، جواد ولد جاوید عمر 18 سال، ایان ولد نامعلوم عمر 25 سال، عبداللہ ولد ظہیر عمر 20 سال، عثمان ولد اصغر علی عمر 20 سال، فہد ولد حنیف عمر 47 سال، زین ولد عبداللہ عمر 23 سال، نادر ولد نامعلوم عمر 50 سال اور دیگر شامل ہیں۔کمشنر کراچی کا کہنا ہے کہ آگ پر نوے فیصد تک قابو پا لیا ہے، کچھ دیر بعد کولنگ کا عمل شروع کردیں گے۔ڈپٹی کمشنر کو لوگوں نے شکایات درج کرائی ہیں کہ تاحال 56 افراد لاپتا ہیں جبکہ صدر گل پلازا تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق 80 سے 100 افراد عمارت میں موجود ہوسکتے ہیں۔ایدھی فانڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ عمارت میں 55 سے زائد افراد لاپتا ہیں جن کے ورثا نے ہم سے رابطہ کیا ہے، فائرفائٹر اپنی جانوں کی قربانی دیکر آگ بجھانے اور لوگوں کو بچانے کی کوشیش کررہے ہیں، عوام سے گزارش ہے پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں عمارت سے دور ہیں۔
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازا کا دورہ کیا۔ میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ لوگ یہاں خریداری کرنے آتے ہیں، آج کل شادیوں کا سیزن ہے، کل رات 10بجے کے بعد یہاں آگی لگنے کی اطلاع ملی، ہماری میونسپل اتھارٹیز نے فوری ریسپانس کیا اور مجھے اطلاع دی، 10 بج کر 27 منٹ پر یہاں پہلا فائر ٹینڈر پہنچا، آگ بجھانے کی کارروائی شروع ہوئی، تقریبا 26 فائر ٹینڈرز، چار اسنارکل اور 10 بازر نے حصہ لیا، کے ایم سی کے علاوہ پاکستان نیوی نے بھی اپنا ایک اسنارکل دیا؛ سول ایوی ایشن اتھارٹی سے بھی 3 آگ بجھانے کی مشینیں آئیں لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہ ابھی تک کی معلومات کے مطابق 6 لوگوں کی جانیں گئی ہیں جس میں ایک کے ایم سی کا فائرفائٹر بھی ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ 22 لوگ زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی گئی، افسوس کی بات یہ ہے کہ 58 یا 60 سے بھی زائد افراد لاپتا ہیں، اللہ تعالی ان کو زندگی دے، یہ بیسمنٹ گرانڈ اور تین منزلہ عمارت تھی، یہاں تقریبا ایک ہزار سے زائد دکانیں تھیں، جس طریقے سے آگ لگی ہے ابھی حتمی طورپر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، کچھ کہتے ہیں کہ کسی ایک دکان میں شارٹ سرکٹ کے بعد یہ آگ لگی اور وہاں ایسا میٹریل موجود تھا کہ جس کی وجہ سے آگ فوری پھیل گئی، فائر فائٹرز کو اندر جانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی جس کی وجہ سے نقصانات میں اضافہ ہوا۔ایک سوال پر انہوں ںے کہا کہ وزیراعظم صاحب نے مجھ سے ذاتی طور پر رابطہ نہیں کیا، ہوسکتا ہے حکومت سے کیا ہو، مجھے جلدی آنا چاہیے تھا مگر افسوس کہ میں یہاں موجود نہیں تھا، میں تقریبا 5 بجے کے قریب شہر آیا ہوں، میں تمام تر حالات کا جائزہ لے کر یہاں آیا ہوں، جو لوگ انتشار پھیلاتے ہیں میں ان پر دھیان نہیں دیتا۔
ان کا کہنا تھا کہ کوشش کریں گے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں، تاجروں کے نقصان کا ازالہ کریں گے، ہمارے کے ایم سی اور 1122 کے فائر فائٹرز والوں کے پاس مہارت موجود ہے، اگر کسی اور کی ضرورت پڑی تو ضرور اپروچ کریں گے، کسی سے مدد طلب کرنا کوئی مضحکہ عمل نہیں ہوگا، یہ بلڈنگ بھی 80 کی دہائی میں تعمیر ہوئی ہے، اس وقت یا اس سے پہلے ایسا نظام لایا گیا جس کو ہم بھی نہ سنبھال سکے۔ڈی آئی جی ساتھ نے بتایا ہے کہ گل پلازا میں تیسرے درجے کی آتشزدگی کا واقعہ ہوا، پولیس، سیکیورٹی ادارے اور ریسکیو ٹیمیں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ریسکیو آپریشن میں مصروف عمل ہیں، آگ پر کافی حد تک قابو پالیا ہے، سندھ حکومت کی ہدایت پر ساتھ زون پولیس نے ہیلپ لائن قائم کر دی ہے۔انہوں ںے بتایا کہ لاپتا افراد سے متعلق معلومات جمع کی جارہی ہیں، حادثے میں رات سے اب تک 6 لاشیں نکال لی گئی ہیں جو کہ شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کردی ہیں،ریسکیو اہلکار فرقان بھی شہدا میں شامل ہے، 22 زخمی سول اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، گل پلازا میں 1200 دکانیں موجود تھیں۔ڈی آئی جی ساتھ کے مطابق گل پلازا کے اطراف پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے، ریسکیو ٹیموں کے لیے راستے کلیئر رکھے جا رہے ہیں، آگ لگنے کی اصل وجہ کولنگ کے بعد تحقیقات میں سامنے آئے گی۔فائر بریگیڈ حکام کے مطابق عمارت میں آگ رات گئے لگی، آگ کو تیسرے درجے کی قرار دیا گیا، گل پلازا کے قریب عقبی حصہ گرنے سے ایک فائر فائٹر دب کر جاں بحق ہوا، شہر بھر سے 20 سے زائد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آپریشن میں مصروف ہیں، عمارت کے باہر دو اسنارکل بھی آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں۔فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ عمارت کی صورتحال مخدوش ہے اس لیے عمارت کے اندر داخل نہیں ہوا جاسکتا، عمارت سے ملبہ ہٹانے کے بعد صورتحال واضح ہوسکے گی۔چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ گرانڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں، آگ کو تیسرے درجے کی قرار دے کر شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کرلیے گئے ہیں، پھنسے ہوئے افراد کو اسنارکل کی مدد سے نکالا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق شاپنگ پلازا پر لگی آگ تیسری منزل تک پہنچ گئی جبکہ گل پلازا میں بیسمنٹ مارکیٹ بھی موجود ہے۔ آگ کے باعث عمارت خستہ حال ہو چکی اور کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔
سی پی ایل سی شناخت پروگرام کی ٹیم نے سول اسپتال ٹراما سینٹر کے باہر کیمپ لگادیا۔ انچارج عامر حسن کے مطابق متاثرین اپنے لاپتا پیاروں سے متعلق تفصیلات سی پی ایل سی ہیلپ ڈیسک پر فراہم کرسکتے ہیں، شناخت ٹیم سانحات میں جاں بحق افراد کی درست شناخت اور ورثا کا سراغ لگانے کا کام انجام دیتی ہیانچارج کے مطابق ملبے اور عمارت میں اب بھی کئی افراد کی موجودگی کا خدشہ ہے، اب تک 6 لاپتا افراد کے لواحقین نے رابطہ کرکے ان کی تفصیلات جمع کرائی ہیں، سی پی ایل سی پروگرام ناقابل شناخت لاشوں کی ڈی این اے کی مدد سے شناخت کو ممکن بناتا ہے، ماضی میں پی آئی اے طیارہ حادثہ، سانحہ بیلا، نوری آباد اور دیگر میں جاں بحق افراد کی لاشوں کی شناخت اس ہی ٹیم نے ممکن بنائی تھی۔انچارج نے مزید بتایا کہ اب تک 40 افراد ہمارے پاس رجسٹریشن کروا چکے پیں۔ترجمان ریسکیو 1122 حسان الحسیب خان نے بتایا کہ گل پلازا کے قریب دکانوں میں آتشزدگی کی اطلاع ملی جس کے بعد فائر اینڈ ریسکیو ٹیم مع ایمبولینس اور فائر بریگیڈ ٹرک جائے وقوعہ پر روانہ کی گئی۔تفصیلات کے مطابق رات 10:15 بجے سے لگنے والی آگ پر قابو پانے کی فائر بریگیڈ کو کوششیں جاری ہیں لیکن ریسکیو حکام کی کوششوں کے باوجود آگ دوبارہ بھڑک جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق فائر فائٹرز اور ریسکیو حکام دوران آتشزدگی عمارت کے اندر داخل نہیں ہوسکے جس سے آگ کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ عمارت کے ستون وغیرہ ٹوٹ کر گرگئے۔ترجمان واٹر بورڈ نے بیان میں بتایا کہ گل پلازا میں آتشزدگی کے واقعے پر فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 نے واٹر کارپوریشن سے فوری مدد طلب کی اور سی ای او احمد علی صدیقی کی ہدایت پر نیپا اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کردی۔انہوں نے کہا کہ واٹر کارپوریشن کی جانب سے فوری طور پر واٹر ٹینکرز جائے وقوع پر روانہ کردیے گئے، انچارج ہائیڈرنٹس سیل محمد صدیق تنیو فائر بریگیڈ اور ریسکیو حکام سے مسلسل رابطے میں رہے۔ترجمان نے بتایا کہ فوکل پرسن سی ای او برائے ہائیڈرنٹس سیل شہباز بشیر آپریشن کی خود نگرانی کر رہے ہیں، آگ بجھانے کے عمل میں فائر بریگیڈ کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی گئی اور واٹر کارپوریشن فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون رہا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب کی ہدایت پر میونسپل کمشنر اور دیگر افسران کی سربراہی میں بلدیہ عظمی کراچی کی ہیوی مشینری جائے وقوع پر پہنچی۔ترجمان کے مطابق میونسپل کمشنر سید محمد افضل زیدی نے ریسکیو آپریشن کی براہِ راست نگرانی کی۔ میونسپل سروسز اور فائر بریگیڈ کی مشینری موقع پر موجود رہی ضرورت پڑنے پر مزید مشینری بھی الرٹ رہی۔واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈی جی رینجرز سندھ کی خصوصی ہدایت پر سندھ رینجرز کے چاق و چوبند دستے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور امدادی کاموں میں حصہ لیا۔گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری گل پلازا پہنچے اور متاثرہ تاجروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے آگ لگنے کے واقعے پر بریفنگ لی جبکہ ریسکیو و امدادی کارروائیوں کا جائزہ بھی کیا۔گورنر سندھ نے متاثرین کے نقصانات اور بحالی کے اقدامات پر فوری ہدایات بھی جاری کیں۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہولناک آگ کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور بھاری مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلی سندھ اور میئر کراچی کو ہدایت کی کہ آگ بجھانے اور ریسکیو آپریشن کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے گل پلازا میں آتشزدگی کے باعث جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جانی نقصان پر شدید افسوس ہے، غمزدہ لواحقین کے اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔میئر کراچی نے کہا کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر موجود ہیں جبکہ ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔میئر کراچی نے بلدیہ عظمی کے تمام محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کو ہر ممکن امداد اور فوری ریسکیو فراہم کیا جائے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کراچی ایم اے جناح روڈ پر گل پلازا میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔انہوں نے کہا کہ آگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہوں۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔مصطفی کمال نے پیش کش کی کہ وفاقی سطح پر سندھ حکومت کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں، ریسکیو ادارے متاثرہ عمارت میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں، آگ پر جلد از جلد قابو پانا اور مزید جانی نقصان سے بچا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی و شہری حکومتیں فائر بریگیڈ اور ریسکیو آپریشن کو مزید مثر بنائیں۔اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے گل شاپنگ پلازہ میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے اور قیمتی جانوں کے ضیاع و مالی نقصان پر افسوس کرتے ہوئے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا اور متعلقہ اداروں کو ہر ممکن معاونت کی ہدایت بھی کی ہے۔اپوزیشن لیڈر سندھ علی خورشیدی نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کو سانحہ قرار دے دیا۔علی خورشیدی نے کہا کہ گل پلازہ سانحہ دلخراش ہے، جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، آتشزدگی کے واقعات پر قابو پانے کے لیے مثر اقدامات نہ ہونا تشویشناک ہے۔اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی نے کہا کہ مزید جانی نقصان سے بچا کے لیے ریسکیو اور امدادی کارروائیوں میں تیزی لائی جائے، متاثرین کو ہر ممکن امداد اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔علی خورشیدی نے جاں بحق فائر فائٹر کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کی۔















































