اسلام آباد /راولپنڈی /چکوال/لاہور(این این آئی)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اورراولپنڈی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی ،جڑواں شہر اسلام آباد اور راولپنڈی میں 15 گھنٹے میں 230 ملی میٹر بارش برسنے پر ندی نالے بپھر گئے، پانی گھروں میں داخل ہوگیا ،نالہ لئی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے پر سائرن بجادیے گئے ،چکوال میں کلاؤڈ برسٹ کے بعد 423 ملی میٹر بارش برسنے پر ڈیم ٹوٹ گیا، نشیبی علاقوں میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے پیش نظر لوگوں کے انخلا کا عمل شروع کر دیا ہے، راولپنڈی میںمری روڈ کے متعدد مقامات کمیٹی چوک انڈرپاس، مری چوک، بنی چوک، جامع مسجد روڈ، اقبال روڈ اور دیگر سڑکوں پرٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی ہے،کئی گاڑیاں سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں ،موٹروے بھی زیر آب آگئی جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،امدادی کاررائیوں میں حصہ لینے کیلئے پاک فوج کے جوان متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ، ہیلی کاپٹرز اور کشتیوں کی مدد سے عوام کی مدد کی گئی ،جبکہ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے ضلع بھر میں ایک روزہ تعطیل کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف انتہائی ضرورت کے تحت ہی گھروں سے نکلیں، نشیبی علاقوں میں پانی کے قریب جانے سے گریز کریں ۔
تفصیلات کے مطابق راولپنڈی انتظامیہ نے جمعرات کے روز شدید بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے پیش نظر وہاں سے لوگوں کے انخلا کا عمل شروع کر دیا ہے، جڑواں شہروں میں مسلسل 15 گھنٹے سے زائد وقت تک موسلا دھار بارش ہوتی رہی، جس کے باعث مختلف علاقے زیرِ آب آ گئے۔ترجمان واسا راولپنڈی کے مطابق نالہ لئی میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونے لگی ، جو کٹاریاں کے مقام پر 21 فٹ اور گوالمنڈی کے مقام پر 20 فٹ تک پہنچ چکی ہے۔ محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ جڑواں شہروں میں اب تک 230 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
صورتحال کے پیشِ نظر ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے ضلع بھر میں ایک روزہ تعطیل کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں کو ہدایت دی کہ وہ صرف انتہائی ضرورت کے تحت ہی گھروں سے نکلیں، انہوں نے شہریوں سے واسا، راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں سے مکمل تعاون کی اپیل کی اور انہیں خبردار کیا کہ نشیبی علاقوں میں پانی کے قریب جانے سے گریز کریں۔شدید بارش کے باعث مری روڈ کے متعدد مقامات کمیٹی چوک انڈرپاس، مری چوک، بنی چوک، جامع مسجد روڈ، اقبال روڈ اور دیگر سڑکوں پرٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں سیدپور گاؤں میں 132 ملی میٹر، گولڑہ (ایـ11 کے قریب) میں 164 ملی میٹر، بوکرا (سی ٹی ٹی آئی، آئیـ12) میں 185 ملی میٹر، پی ایم ڈی (ایچـ8/2) میں 152 ملی میٹر، اور شمس آباد میں 158 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے۔راولپنڈی میں کچہری (چکلالہ کے قریب) میں 235 ملی میٹر، پیرودھائی میں 196 ملی میٹر، گوالمنڈی میں 220 ملی میٹر اور نیو کٹاریاں میں 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
نالہ لئی کی سطح بلند ہونے کے باعث خطرے کے سائرن بجادیے گئے ہیں جبکہ پاک فوج نالہ لئی کی صورتحال کا جائزہ لینے گوالمنڈی پل پہنچی، نالہ لئی کے اطراف کی مساجد سے اعلانات کا سلسلہ بھی کئے گئے ۔راولپنڈی کنٹونمنٹ اور چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے نالہ کی صفائی نہ ہونے پر بارشی پانی گھروں میں داخل ہوگیا، بحریہ ٹاون فیز8 میں نالے کا پانی سڑکوں پرآگیا، راولپنڈی اور اسلام آباد میں شدید بارشوں سے موٹروے بھی زیر آب آگئی، موٹر وے پر موجود شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔راولپنڈی میں نیو چاکرا، ٹینچ بھاٹہ اور جان کالونی میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا، جان کالونی کے رہائشیوں نے امدادی ٹیموں سے مدد کی اپیل کی گئی، گرجا روڈ اور محلہ قریشی میں بھی پانی کا زور ٹوٹ نہ سکا۔محلہ قریشی آباد کے متعدد گھر زیرِ آب آگئے،ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں بھیجی گئیں ۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق راولپنڈی میں چکری روڈ لادیاں گاؤں میں پھنسی فیملی کو نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹر پہنچ گیا، ہیلی کاپٹر چھت پر پھنسی فیملی کو ریسکیو کرنے کے لیے بھجوایا گیا، فیملی کو ریسکیو کرنے کے لیے جانے والی ریسکیو ٹیم کی ناکامی پر ہیلی کاپٹر بھجوایا گیا۔راولپنڈی میں بارش کے بعد سیلابی صورتحال پر وزیراعظم شہباز شریف نے چیف کمشنر راولپنڈی اور ایم ڈی واسا سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر راولپنڈی سمیت پنجاب کے شدید بارشوں، سیلاب اور طغیانی کی لپیٹ میں آئے علاقوں میں رین ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو سمیت دیگر تمام ادارے عوام کو سیلابی صورتحال سے بچانے کے لیے پورے صوبے میں متحرک ہوگئے، کشتیوں کے ذریعے عوام کی مدد کا سلسلہ بھی جاری رہاادھر چکوال میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث طوفانی بارش ہوئی جبکہ 10 گھنٹے کے دوران423 ملی میٹر بارش سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔
شری کٹاس راج کا مقدس تالاب بھی سیلاب کی زد میں آ گیا، چکوال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، پنوال ڈیم کا بند ٹوٹنے سے بھٹہ خشت کا علاقہ زیر آب آگیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق منڈی بہاؤالدین شہر میں بھی 210 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی جس کے باعث سڑکیں اور گلیاں تالاب میں بدل گئی تھیں، وہالی زیر میں 351، چوآسیدن شاہ میں330ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے) نے اگلے 24 گھنٹے کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث شہروں میں سیلابی صورتحال جبکہ ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کردیا۔این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے اضلاع لاہور، چکوال، اٹک، جہلم، خوشاب، میں شدید بارش کا امکان ہے جبکہ سرگودھا، گجرات، گوجرانوالہ، فیصل آباد، سیالکوٹ، شیخوپورہ اور حافظ آباد میں اگلے 12 گھنٹوں میں آندھی اور طوفان کے ساتھ شدید بارش کا امکان ہے۔جڑواں شہروں میں بھی 24 سے 48 گھنٹے تک وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش جاری رہنے کا امکان ہے، موسلادھار بارش کے باعث نالہ لئی میں ممکنہ طغیانی اور نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کا امکان ہے، این ڈی ایم اے نے عوام سے احتیاطی تدبیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
دریں اثناء پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ترجمان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مون سون بارشوں کے باعث صوبے بھر میں 63 افراد جاں بحق اور 290 زخمی ہوئے ہیں۔جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ لاہور میں 15، فیصل آباد میں 9، ساہیوال میں 5، پاکپتن میں 3 اور اوکاڑہ میں 9 افراد ہلاک ہوئے، ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہا کہ رواں سال مون سون بارشوں کے باعث 103 شہری جانبحق اور 393 زخمی ہوئے، مون سون بارشوں کے باعث 128 مکانات متاثر اور 6 مویشی ہلاک ہوئے۔ترجمان کے مطابق جاں بحق افراد کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔دوسری جانب پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے پنجاب بھر میں آج بھی بارش کا الرٹ جاری کردیا۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریاؤں کے بالائی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی ہے، پی ڈی ایم اے نے صوبائی کنٹرول روم سمیت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز کو الرٹ جاری کردیا ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور ،راولپنڈی، فیصل آباد ،گوجرانوالہ، سرگودھا، ملتان، ساہیوال، بہاولپور، اٹک، چکوال، جہلم، مری، گلیات، میانوالی، نارووال، گجرات، سیالکوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، منڈی بہاالدین اور ڈی جی خان میں تیز بارشیں متوقع ہیں۔پی ڈی ایم اے کے مطابق موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقوں کے ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے جبکہ طوفانی بارش سے مری کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔