منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے ملاقات کی تصدیق، مثبت پیش رفت کا دعویٰ

datetime 16  جنوری‬‮  2025 |

راولپنڈی(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے آرمی چیف سے ملاقات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری اور علی امین گنڈاپور کی آرمی چیف سے ملاقات ہوئی ہے، آرمی چیف کے سامنے پی ٹی آئی کے تمام مطالبات رکھے ہیں، دوسری جانب سے مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میری اور علی امین گنڈاپور کی آرمی چیف سے ملاقات ہوئی ہے، آرمی چیف کے سامنے پی ٹی آئی کے تمام مطالبات رکھے ہیں،اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست مذاکرات خوش آئند ہیں۔بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ آرمی چیف سے ملاقات پشاور میں ہوئی ہے، دوسری جانب سے مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔

دریں اثناوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ میری اور بیرسٹر گوہر کی سیکیورٹی صورتحال پر دیگر جماعتوں کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات ہوئی۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ میرا ایمان بہت مضبوط ہے، اگر میرے زہن میں کوئی شبہ ہوتا تو مذاکراتی کمیٹی کا حصہ نہ بنتا،جو کچھ ہوگا مزاکراتی کمیٹی کے زریعے سب کے سامنے ہوگا۔واضح رہے کہ تحریک انصاف نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے تیسرے دور میں اپنا 7 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کردیا۔پی ٹی آئی نے چارٹر آف ڈیمانڈ میں 2 کمیشن آف انکوائری بنانے کا مطالبہ کیا ہے، چارٹر آف ڈیمانڈ میں کہا گیا کہ چیف جسٹس کی زیر سربراہی یا 3

سنیئرججز پر مشتمل کمیشن بنایا جائے جس کے لیے ججز کا انتخاب حکومت اور پی ٹی آئی ملکر کریں گی۔حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ کمیشن کا اعلان 7 دن میں کیا جائے اور کمیشن کی کارروائی کو اوپن رکھا جائے۔چارٹر آف ڈیمانڈ میں کہا گیا کہ پہلا کمیشن 9 مئی کے واقعات کے تحقیقات کرے جبکہ بانی کی رینجرز کے ہاتھوں گرفتاری کی بھی تحقیقات کی جائیں اور گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پیش آنے والے واقعات کی ویڈیوز کا جائزہ لیا جائے۔تحریک انصاف نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام گرفتاریوں کا قانونی حیثیت اور انسانی حقوق کے حوالے سے جائزہ لیا جائے جبکہ ایک ہی فرد کے خلاف متعدد ایف آئی آرز کے اندراج کا جائزہ لیا جائے۔

چارٹر آف ڈیمانڈ میں کہا گیا ہے کہ سنسر شپ، رپورٹنگ پر پابندیوں اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کی تحقیقات کی جائے، کمشین انٹرنیٹ کی بندش اور اس ہونے والے نقصانات کے ذمہ داران کا بھی تعین کرے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے واضح کیا ہے کہ ان کے مطالبات میں اسیران کی رہائی شامل ہیبتایا کہ اسیران کو کسی ڈیل یا ڈھیل کے تحت نہیں بلکہ آئین اور قانون کے تحت رہا کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…