اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

30 ہزار طلبہ ڈگریوں کی تصدیق کے منتظر ہیں، سینیٹ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف

datetime 3  جنوری‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی زیر صدارت سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ 30 ہزار طلبہ کی ڈگریاں تصدیق کی منتظر ہیں۔جمعہ کوپارلیمنٹ لاجز میں سینیٹ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں قومی تعلیمی کانفرنس بلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا، قومی تعلیمی کانفرنس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور صوبائی وزرائے تعلیم کو بھی مدعو کیا جائیگا، اجلاس میں طلبہ یونینز کی بحالی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔قائمہ کمیٹی میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے ملازمین کی پنشن کے مسائل زیر بحث آئے، جس پر وائس چانسلر اْردو یونیورسٹی نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں، یونیورسٹی کے مسائل ہیں، پچھلے 5 سال سے جو فنڈز مل رہے ہیں، ان میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، لیکن تنخواہ اور پنشن بڑھ گئی،کمیٹی کے رکن سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا وفاقی اردو یونیورسٹی کی بدقسمتی رہی ہے کہ کبھی مستقل وائس چانسلر نہیں رہے، یہ صرف ایک یونیورسٹی نہیں بلکہ ملک کی متعدد یونیورسٹیوں کا مسئلہ ہے کہ تنخواہیں نہیں دی جا رہیں۔

چیئرپرسن قائمہ کمیٹی سینیٹر بشری انجم بٹ نے کہا کہ قائم مقام وائس چانسلر کی تعیناتی کے خلاف ہوں، اردو یونیورسٹی کا مسئلہ کافی عرصہ سے ہے، اس حوالے سے باقاعدہ پالیسیاں بنائی جائیں۔وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے 30 سے 35 سال کے مسائل ہیں۔چیئرمین ایچ ایم سی نے کہا کہ اردو یونیورسٹی گھمبیر قسم کے مسائل کی آماج گاہ ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کے اجلاس میں جامعات میں طلبہ یونینز پر پابندی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، سینیٹر سید مسرور احسن نے کہا کہ مصنوعی قیادت سامنے آتی ہے تو ملک میں بحران پیدا ہوتے ہیں۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ طلبہ یونینز کی بندش کے پیچھے سیاسی نہیں بلکہ کچھ اور قوتوں کا ہاتھ ہے۔وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول نے کہا کہ طلبہ یونینز بحال ہونی چاہئیں، 13 تاریخ کو ایچ ای سی نے تمام یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو بلا رکھا ہے، جس میں طلبہ یونینز کی بحالی پر بھی بات ہوگی، طلبہ یونینز کی بندش کے بعد مسائل بڑھے ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ طلبہ یونینز کی بحالی کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کروایا جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…