ہفتہ‬‮ ، 14 فروری‬‮ 2026 

30 ہزار طلبہ ڈگریوں کی تصدیق کے منتظر ہیں، سینیٹ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف

datetime 3  جنوری‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی زیر صدارت سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ 30 ہزار طلبہ کی ڈگریاں تصدیق کی منتظر ہیں۔جمعہ کوپارلیمنٹ لاجز میں سینیٹ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں قومی تعلیمی کانفرنس بلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا، قومی تعلیمی کانفرنس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور صوبائی وزرائے تعلیم کو بھی مدعو کیا جائیگا، اجلاس میں طلبہ یونینز کی بحالی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔قائمہ کمیٹی میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے ملازمین کی پنشن کے مسائل زیر بحث آئے، جس پر وائس چانسلر اْردو یونیورسٹی نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں، یونیورسٹی کے مسائل ہیں، پچھلے 5 سال سے جو فنڈز مل رہے ہیں، ان میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، لیکن تنخواہ اور پنشن بڑھ گئی،کمیٹی کے رکن سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا وفاقی اردو یونیورسٹی کی بدقسمتی رہی ہے کہ کبھی مستقل وائس چانسلر نہیں رہے، یہ صرف ایک یونیورسٹی نہیں بلکہ ملک کی متعدد یونیورسٹیوں کا مسئلہ ہے کہ تنخواہیں نہیں دی جا رہیں۔

چیئرپرسن قائمہ کمیٹی سینیٹر بشری انجم بٹ نے کہا کہ قائم مقام وائس چانسلر کی تعیناتی کے خلاف ہوں، اردو یونیورسٹی کا مسئلہ کافی عرصہ سے ہے، اس حوالے سے باقاعدہ پالیسیاں بنائی جائیں۔وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے 30 سے 35 سال کے مسائل ہیں۔چیئرمین ایچ ایم سی نے کہا کہ اردو یونیورسٹی گھمبیر قسم کے مسائل کی آماج گاہ ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کے اجلاس میں جامعات میں طلبہ یونینز پر پابندی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، سینیٹر سید مسرور احسن نے کہا کہ مصنوعی قیادت سامنے آتی ہے تو ملک میں بحران پیدا ہوتے ہیں۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ طلبہ یونینز کی بندش کے پیچھے سیاسی نہیں بلکہ کچھ اور قوتوں کا ہاتھ ہے۔وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول نے کہا کہ طلبہ یونینز بحال ہونی چاہئیں، 13 تاریخ کو ایچ ای سی نے تمام یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو بلا رکھا ہے، جس میں طلبہ یونینز کی بحالی پر بھی بات ہوگی، طلبہ یونینز کی بندش کے بعد مسائل بڑھے ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ طلبہ یونینز کی بحالی کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کروایا جائے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…