منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف کا ایک بار پھر ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری افسران کے اثاثے پبلک کرنے کا مطالبہ

datetime 1  جون‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)آئی ایم ایف نے ایک بار پھر وزرا، ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری افسران کے اثاثے پبلک کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اثاثے ظاہر کرنے پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے، ایف بی آر کی طرف سے اراکین پارلیمنٹ اور ٹیکس دہندگان کی ٹیکس ڈائریکٹری کی اشاعت کا سلسلہ بھی بند ہوگیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق آئی ایم ایف نے آئندہ بجٹ میں انسداد بدعنوانی کیلئے سخت اقدامات کرنے کی تجویز دے دی اور عوامی عہدہ رکھنے والوں، سرکاری افسران کے اثاثے پبلک کرنے کا مطالبہ دوبارہ کیا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کرپشن کے خاتمے کے لیے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وزرا، ارکان پارلیمنٹ، سرکاری افسران کے اثاثے ظاہرکرنے پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت اثاثے عوامی سطح پر ظاہر کرنے کیلئے پورٹل بنانے میں ناکام ہے، بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے پورٹل نہ بنانے پر حکومت پاکستان سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام معاہدہ کے تحت پورٹل بناکر اثاثوں کی تفصیلات عام کرنے کے پابند ہیں، آئی ایم ایف نے کابینہ ارکان، ارکان اسمبلی، افسران کے اثاثے عام کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ہدایت پر افسران کیلئے ایک پرفارما بنایا تھا، بینک سرکاری افسران سے نئے اکائونٹ کھولتے وقت اثاثوں کی معلومات لینے کے پابند ہیں۔واضح رہے کہ پہلے ایف بی آر کی طرف سے اراکین پارلیمنٹ سمیت عام ٹیکس دہندگان کی ٹیکس ڈائریکٹری شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا لیکن اب یہ بھی بند کردیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…